تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: سبإ ٥٣:٣٤

٥٣:٣٤
وقد كفروا به من قبل ويقذفون بالغيب من مكان بعيد ٥٣
وَقَدْ كَفَرُوا۟ بِهِۦ مِن قَبْلُ ۖ وَيَقْذِفُونَ بِٱلْغَيْبِ مِن مَّكَانٍۭ بَعِيدٍۢ ٥٣
وَقَدۡ
كَفَرُواْ
بِهِۦ
مِن
قَبۡلُۖ
وَيَقۡذِفُونَ
بِٱلۡغَيۡبِ
مِن
مَّكَانِۭ
بَعِيدٖ
٥٣
وقد كفروا بالحق في الدنيا، وكذبوا الرسل، ويرمون بالظن من جهة بعيدة عن إصابة الحق، ليس لهم فيها مستند لظنهم الباطل، فلا سبيل لإصابتهم الحق، كما لا سبيل للرامي إلى إصابة الغرض من مكان بعيد.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 34:51إلى 35:2

فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے پیغام رسانی کےلیے اور اپنے احکام کی تنفیذ کےلیے پیدا کیا ہے۔ مگر شیطان نے لوگوں کو سکھایا کہ فرشتے مستقل بالذات حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ دنیا میں برکت اورآخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ قومیں لات اور منات جیسے ناموں سے ان کی فرضی تصویریں بنا کر ان کی عبادت کرنے لگیں۔ کچھ قوموں نے ان کو دیوی دیوتا قرار دے کر انھیں پوجنا شروع کردیا۔ موجودہ زمانہ میں قانون فطرت (law of nature)کی تعظیم بھی اسی گمراہی کا جدیدایڈیشن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرشتے ہوں یا قانون فطرت، سب ایک خدا کے محکوم ہیں۔ سب ایک خدا کے کارگزار ہیں، خواہ وہ دو بازوؤں والے ہوں یا 600 بازوؤں والے یا 600 کرور بازوؤں والے۔