تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: ص ١١:٣٨

١١:٣٨
جند ما هنالك مهزوم من الاحزاب ١١
جُندٌۭ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌۭ مِّنَ ٱلْأَحْزَابِ ١١
جُندٞ
مَّا
هُنَالِكَ
مَهۡزُومٞ
مِّنَ
ٱلۡأَحۡزَابِ
١١
هؤلاء الجند المكذِّبون جند مهزومون، كما هُزم غيرهم من الأحزاب قبلهم، كذَّبت قبلهم قوم نوح وعاد وفرعون صاحب القوة العظيمة، وثمود وقوم لوط وأصحاب الأشجار والبساتين وهم قوم شعيب. أولئك الأمم الذين تحزَّبوا على الكفر والتكذيب واجتمعوا عليه. إنْ كلٌّ مِن هؤلاء إلا كذَّب الرسل، فاستحقوا عذاب الله، وحلَّ بهم عقابه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

آیت نمبر 11

ان کا انجام اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ دور جاکر پھینک دیئے جائیں اور ان کے اس لشکر کو شکست ہوجائے۔ وہ مقام جس کا اپنے لئے یہ دعویٰ کرتے ہیں اس سے بہت دور کسی جگہ ان کا لشکر شکست کھانے والا ہے۔ یہ لشکر اللہ کی مملکت میں دخیل نہیں ہے۔ یہ اللہ کے ارادوں کو نہیں بدل سکتا۔ اور اللہ کی مشیت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ ایک مجہول النسب لشکر ہے ، مجہول الشان ہے اور شکست خوردہ ہے۔ گویا شکست اس کی لازمی صفت ہے۔ اس کی شخصیت کا حصہ ہے اور یہ لشکر مختلف احزاب سے بنا ہوا ہے۔ جن کے رجحانات مختلف ہیں اور جن کی خواہشات مختلف ہیں۔

اللہ اور رسول اللہ کے دشمن صرف اسی قدر ترقی کرسکتے ہیں جس کی تصویر کشی قرآن کریم کمزوری ، عجز اور ضعف کے رنگوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اور یہ تاثر دیتا ہے کہ لوگ اللہ کے تصرف اور تدبیر کے دائرے سے بہت ہی دور ہیں۔ اگرچہ دنیا کی نظروں میں وہ جبار وقہار ہوں اور ان کی پکڑ سخت ہو اور کچھ عرصہ کے لیے دنیا میں ان کی بات چلتی ہو۔ پوری تاریخ انسانی میں ایسے جباروں کے بارے قرآن مجید یہ تصویر کشی کرتا ہے۔

جندما ھنالک مھزوم من الاحزاب (38: 11) ” یہ تو جتھوں میں سے ایک چھوٹا سا جتھا ہے جو اسی جگہ شکست کھانے والا ہے