تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: طه ١٣:٢٠

١٣:٢٠
وانا اخترتك فاستمع لما يوحى ١٣
وَأَنَا ٱخْتَرْتُكَ فَٱسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰٓ ١٣
وَأَنَا
ٱخۡتَرۡتُكَ
فَٱسۡتَمِعۡ
لِمَا
يُوحَىٰٓ
١٣
وإني اخترتك يا موسى لرسالتي، فاستمع لما يوحى إليك مني.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

وانا اخترتک (31) ” اور میں نے تجھ کو چن لیا “۔ ما شاء اللہ کیا اکرام ہے ! اللہ بذات خود انتخاب فرما رہے ہیں۔ اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو ‘ انسانوں کے ہزارہا گروہوں میں سے صرف ایک فرد کو ‘ یہ فرد اللہ کے پیدا کردہ ستاروں میں سے ایک ستارے پر رہتا ہے ‘ جو بہ نسبت پوری کائنات کے ایک ذرہ ہے۔ وہ کائنات جو صرف کن کے حکم کے نتیجے میں وجود میں آگئی لیکن یہ اس ذات باری کی ذرہ نوازی ہی تو ہے۔

اس اعزاز اور انتخاب کے بعد اور جوتے اتار کر بار گاہ رب العزت میں حاضری اور اخذ وحی کی تیاری و استعداد کے بعد حکم آتا ہے کہ اب سنو ‘ باران رحمت کا نزول ہورہا ہے۔

فاستمع لما یوحی (31) ” سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے “۔ جو پیغام دیا جارہا ہے ‘ وہ تین مربوط امور پر مشتمل ہے۔ عقیدہ توحید ‘ توجہ سے اللہ کی بندگی اور آخرت کی جوابدہی کا احساس اور اس کی تیاری۔ یہ نکات تمام رسالتوں کا نصب العین رہے ہیں جو ایک ہی نوعیت رکھتی ہیں۔