تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يس ٢٧:٣٦

٢٧:٣٦
بما غفر لي ربي وجعلني من المكرمين ٢٧
بِمَا غَفَرَ لِى رَبِّى وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُكْرَمِينَ ٢٧
بِمَا
غَفَرَ
لِي
رَبِّي
وَجَعَلَنِي
مِنَ
ٱلۡمُكۡرَمِينَ
٢٧
قال وهو في النعيم والكرامة: يا ليت قومي يعلمون بغفران ربي لي وإكرامه إياي; بسبب إيماني بالله وصبري على طاعته، واتباع رسله حتى قُتِلت، فيؤمنوا بالله فيدخلوا الجنة مثلي.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 36:26إلى 36:27

قیل ادخل الجنۃ۔۔۔۔۔ من المکرمین (26 – 27) ” “۔

یہاں دنیا کی زندگی کے ڈانڈے آخرت سے مل جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ موت اور شہادت نے اسے عالم فنا سے عالم بقا کی طرف منتقل کردیا ہے۔ یہ ایک جست ہوتی ہے جس کے ذریعے ایک مومن دنیا کی تنگیوں سے نکل کر جنت کی وسعتوں میں داخل ہوجاتا ہے۔ باطل کی زیادتیوں سے رہائی پاکر سچائی کی مطمئن دنیا میں داخل ہوجاتا ہے اور تشدد کی دھمکیوں سے نکل کر ، امن و سلامتی کی نعمتوں میں پہنچ جاتا ہے اور جاہلیت کے اندھیروں سے یقین کی روشنی میں آجاتا ہے۔

اب ہم اس رجل مومن کو دیکھتے ہیں ۔ یہ ان انعامات و اکرامات کی اطلاع چشم زدن میں پاچکا ہے۔ لیکن وہاں سے بھی قوم کے نام اس کی ایک پکار آتی ہے ، اس کی اس پکار میں کوئی تلخی نہیں ہے اس کا نفس راضی ہے ، وہاں بھی وہ یہی تمنا کرتا ہے کہ اے کاش میری قوم جانتی کہ میں کہاں پہنچ چکا ہوں ، اللہ کے اکرام اور انعام کی کیا شان ہے تاکہ وہ بھی حق کو قبول کرلیں اور ان کو بھی یقین کی دلالت مل جائے۔ یہ تو ہے جزائے ایمان ، رہے نبیوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے والے ۔۔۔ تو ان کی حیثیت ہی کیا ان کو تو اللہ اپنے ملائکہ کے ذریعے ہلاک کرسکتا ہے۔ وہ تو بہت ہی ضعیف و حقیر ہیں۔