تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يس ٥٥:٣٦

٥٥:٣٦
ان اصحاب الجنة اليوم في شغل فاكهون ٥٥
إِنَّ أَصْحَـٰبَ ٱلْجَنَّةِ ٱلْيَوْمَ فِى شُغُلٍۢ فَـٰكِهُونَ ٥٥
إِنَّ
أَصۡحَٰبَ
ٱلۡجَنَّةِ
ٱلۡيَوۡمَ
فِي
شُغُلٖ
فَٰكِهُونَ
٥٥
إن أهل الجنة في ذلك اليوم مشغولون عن غيرهم بأنواع النعيم التي يتفكهون بها.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 36:55إلى 36:58

ان اصحب الجنۃ۔۔۔۔۔۔۔۔ من رب رحیم (55 – 58) ” “۔

یہ عیش و عشرت میں مشغول ہوں گے ، ان پر اللہ کے انعامات کی بارش ہوگی اور نہایت ہی خوشگوار چھاؤں میں بیٹھے ہوں گے۔ آمنے سامنے تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے اور وہ جنت کے مالک ہوں گے اور ان کا یہ حق ہوگا کہ جو چاہیں گے ، مہیا ہوگا اور ان لذائذ کے اوپر مزید ان کے اہل خانہ بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔ اور ان کی تکریم ہوگی کہ خود اللہ تعالیٰ ان کے نام سلام بھیجے گا ۔ یہ رب کریم کی طرف سے ان کا اعزاز ہوگا۔

سلم قولا من رب رحیم (36: 58) ” رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے “۔ رہے کفار تو ان کے ساتھ حساب و کتاب یہاں نہیں دکھایا گیا بلکہ یہاں محض سرزنش اور جھڑکی اور ملامت کردی جاتی ہے۔