تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يس ٦٥:٣٦

٦٥:٣٦
اليوم نختم على افواههم وتكلمنا ايديهم وتشهد ارجلهم بما كانوا يكسبون ٦٥
ٱلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ ٦٥
ٱلۡيَوۡمَ
نَخۡتِمُ
عَلَىٰٓ
أَفۡوَٰهِهِمۡ
وَتُكَلِّمُنَآ
أَيۡدِيهِمۡ
وَتَشۡهَدُ
أَرۡجُلُهُم
بِمَا
كَانُواْ
يَكۡسِبُونَ
٦٥
اليوم نطبع على أفواه المشركين فلا ينطقون، وتُكلِّمنا أيديهم بما بطشت به، وتشهد أرجلهم بما سعت إليه في الدنيا، وكسبت من الآثام.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

الیوم نختم۔۔۔۔ یکسبون (65) ” “۔ یوں وہ ایک دوسرے کو ملامت کرتے ہیں۔ ان پر خود ان کے اعضاء شہادت دے رہے ہیں خود ان کی اپنی شخصیت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے اور ان کی ذات کے حصے ایک دوسرے کے خلاف گواہ ہوں گے اور انسان کا ہر عضو اپنے رب کے سامنے انفرادی طور پر ذمہ دار ہوگا۔ اور اللہ کے سامنے ہر عضو اقرار گناہ کرے گا اور سرتسلیم خم کرے گا۔ یہ نہایت ہیبت ناک اور خوفناک منظر ہے۔ انسان اس منظر کے بارے میں سوچتے ہی کانپ اٹھتا ہے۔

یہ منظر یوں اختتام پذیر ہوتا ہے کہ ان کی زبانیں بند ہیں اور ان کے ہاتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ان کے پاؤں شہادت دے رہے ہیں ، حالانکہ انہیں اپنے ہاتھ پاؤں سے یہ توقع ہرگز نہ تھی۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ ان کے ساتھ اس کے سوا کوئی اور سلوک کرتا اور انہیں جو سزا چاہتا ، دیتا اور ان پر جو مصیبت چاہتا لے آتا۔ یہاں اللہ دوسری سزاؤں کے دو نمونے بھی دیتا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو یوں ہوتا۔