تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ١٠٥:١٠

١٠٥:١٠
وان اقم وجهك للدين حنيفا ولا تكونن من المشركين ١٠٥
وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًۭا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ١٠٥
وَأَنۡ
أَقِمۡ
وَجۡهَكَ
لِلدِّينِ
حَنِيفٗا
وَلَا
تَكُونَنَّ
مِنَ
ٱلۡمُشۡرِكِينَ
١٠٥
وأن أقم -أيها الرسول- نفسك على دين الإسلام مستقيمًا عليه غير مائل عنه إلى يهودية ولا نصرانية ولا عبادة غيره، ولا تكونن ممن يشرك في عبادة ربه الآلهة والأنداد، فتكون من الهالكين. وهذا وإن كان خطابًا للرسول صلى الله عليه وسلَّم فإنه موجَّه لعموم الأمة.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

وان اقم وجھک للذین حنیفا ولا تکونن من المشرکین۔ اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس دین (توحید خالص) کی طرف اپنا رخ رکھنا ہر دین سے کٹ کر اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہوجانا۔ یعنی مجھے ایمان پر رہنے ‘ دینی استقامت رکھنے اور تن دہی کے ساتھ فرائض ادا کرنے اور برائیوں سے باز رہنے کا بھی حکم دیا گیا ہے (گویا اقامت لِلَّذِیْنَ سے مراد ہے تمام فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے پرہیز) یا اقامت وجہ سے مراد ہے نماز کو قبلہ رخ ہو کر ادا کرنا۔