تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ١٠٩:١٠

١٠٩:١٠
واتبع ما يوحى اليك واصبر حتى يحكم الله وهو خير الحاكمين ١٠٩
وَٱتَّبِعْ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيْكَ وَٱصْبِرْ حَتَّىٰ يَحْكُمَ ٱللَّهُ ۚ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَـٰكِمِينَ ١٠٩
وَٱتَّبِعۡ
مَا
يُوحَىٰٓ
إِلَيۡكَ
وَٱصۡبِرۡ
حَتَّىٰ
يَحۡكُمَ
ٱللَّهُۚ
وَهُوَ
خَيۡرُ
ٱلۡحَٰكِمِينَ
١٠٩
واتبع -أيها الرسول- وحي الله الذي يوحيه إليك فاعمل به، واصبر على طاعة الله تعالى، وعن معصيته، وعلى أذى من آذاك في تبليغ رسالته، حتى يقضي الله فيهم وفيك أمره، وهو -عزَّ وجل- خير الحاكمين; فإن حكمه مشتمل على العدل التام.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 10:108إلى 10:109

دعوت کا کام اصلاً اعلانِ حق کا کام ہے۔ کسی گروہ کے اوپر اس وقت پیغام رسانی کا حق ادا ہوجاتاہے جب کہ داعی امر حق کو دلیل کے ذریعہ پوری طرح واضح کردے اور اسی کے ساتھ اس بات کا ثبوت دے دے کہ وہ اس معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ہے۔داعی اگر وقت کے معیار کے مطابق امر حق کو مدلّل کردے۔ وہ نفع نقصان سے بے نیاز ہو کر حق کی مکمل گواہی دے دے۔ وہ ہر تکلیف اور ناخوش گواری کو برداشت کرتا ہوا اپنے دعوتی کام کو جاری رکھے تو اس کے بعد مخاطب کے اوپر وہ اتمام حجت ہوجاتا ہے جس کے بعد خدا کے یہاں کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔

داعی کا کام اصلاً اتباعِ وحی ہے۔ یعنی اپنی ذات کی حد تک عملاً مرضیٔ رب پر قائم رہتے ہوئے دوسروں کو مرضیٔ رب کی طرف پکارتے رہنا۔ اس کام کو ہر حال میں حکمت اور صبر اور خیر خواہی کے ساتھ مسلسل جاری رکھنا ہے۔ اس کے بعد جتنے بقیہ مراحل ہیں وہ سب براہِ راست طورپر خدا سے متعلق ہیں۔ داعی کی طرف سے کوئی دوسرا عملی اقدام صرف اس وقت درست ہے جب کہ خود خدا کی طرف سے اس کا فیصلہ کیا جاچکا ہو اور اس کے آثار ظاہر ہوجائیں۔

خدا کا فیصلہ ہمیشہ حالات کے روپ میں ظاہر ہوتاہے، جب خدا کے علم میں داعی کا دعوتی کام مطلوب حدکو پہنچ چکا ہوتا ہے تو خدا حالات میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے جس کو استعمال کرکے داعی اپنے عمل کے اگلے مرحلہ میں داخل ہوجائے۔