تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ١٣:١٠

١٣:١٠
ولقد اهلكنا القرون من قبلكم لما ظلموا وجاءتهم رسلهم بالبينات وما كانوا ليومنوا كذالك نجزي القوم المجرمين ١٣
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا ٱلْقُرُونَ مِن قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا۟ ۙ وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِينَ ١٣
وَلَقَدۡ
أَهۡلَكۡنَا
ٱلۡقُرُونَ
مِن
قَبۡلِكُمۡ
لَمَّا
ظَلَمُواْ
وَجَآءَتۡهُمۡ
رُسُلُهُم
بِٱلۡبَيِّنَٰتِ
وَمَا
كَانُواْ
لِيُؤۡمِنُواْۚ
كَذَٰلِكَ
نَجۡزِي
ٱلۡقَوۡمَ
ٱلۡمُجۡرِمِينَ
١٣
ولقد أهلكنا الأمم التي كذَّبت رسل الله من قبلكم -أيها المشركون بربهم- لمَّا أشركوا، وجاءتهم رسلهم من عند الله بالمعجزات الواضحات والحجج التي تبين صدق مَن جاء بها، فلم تكن هذه الأمم التي أهلكناها لتصدق رسلها وتنقاد لها، فاستحقوا الهلاك، ومثل ذلك الإهلاك نجزي كل مجرم متجاوز حدود الله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ولقد اھلکنا القرون من قبلکم اور (اے اہل مکہ ! ) تم سے سابق قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔

لما ظلموا جب انہوں نے (کفر و بداعمالی کر کے) خود اپنے اوپر ظلم کیا۔

وجاء تھم رسلھم بالبینت اور ان کے پیغمبر کھلی ہوئی واضح دلیلیں ان کے پاس لا چکے (مگر انہوں نے کسی دلیل کو نہیں مانا) گویا حجت تمام ہوگئی اور ہلاکت کا ان کو استحقاق ہوگیا۔ اسی مضمون کو دوسری آیت میں بیان کیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ۔

وما کانوا لیؤمنوا اور وہ (ظالم قومیں) ایسی تھیں ہی نہیں کہ ایمان لاتیں۔ یعنی ان میں ایمان لانے کی فطری صلاحیت ہی نہ تھی۔ اللہ کے اسم مضل (گمراہ کرنے والا) کا پرتو ان کا مبدء تعین تھا ‘ اسلئے اللہ نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے ازلی علم میں وہ مؤمن نہ تھے ‘ اللہ (تخلیق سے پہلے ہی) جانتا تھا کہ وہ کافر مریں گے۔

کذلک نجزی القوم المجرمین۔ ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ یعنی پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں اور کفر پر جمے رہنے والوں کی سزا ان کو ہلاک کردینا ہے جبکہ یہ امر یقین ہوجائے کہ ان کو مہلت دینے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ پس ایسی ہی سزا ہم ہر مجرم کو یا تم کو دیں گے۔ جرم کا تقاضا ہی یہ ہے ‘ جرم ہلاکت کا مستحق بنا دیتا ہے۔