تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ٣٠:١٠

٣٠:١٠
هنالك تبلو كل نفس ما اسلفت وردوا الى الله مولاهم الحق وضل عنهم ما كانوا يفترون ٣٠
هُنَالِكَ تَبْلُوا۟ كُلُّ نَفْسٍۢ مَّآ أَسْلَفَتْ ۚ وَرُدُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ مَوْلَىٰهُمُ ٱلْحَقِّ ۖ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ ٣٠
هُنَالِكَ
تَبۡلُواْ
كُلُّ
نَفۡسٖ
مَّآ
أَسۡلَفَتۡۚ
وَرُدُّوٓاْ
إِلَى
ٱللَّهِ
مَوۡلَىٰهُمُ
ٱلۡحَقِّۖ
وَضَلَّ
عَنۡهُم
مَّا
كَانُواْ
يَفۡتَرُونَ
٣٠
في ذلك الموقف للحساب تتفقد كل نفس أحوالها وأعمالها التي سلفت وتعاينها، وتجازى بحسبها: إن خيرًا فخير، وإن شرًا فشر، ورُدَّ الجميع إلى الله الحكم العدل، فأُدخِلَ أهل الجنةِ الجنةَ وأهل النار النار، وذهب عن المشركين ما كانوا يعبدون من دون الله افتراء عليه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ھنالک تبلوا کل نفس ما اسلفت اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کئے ہوئے کاموں کو جانچ لے گا اور اپنے گذشتہ اعمال کے نفع و ضرر کو دیکھ لے گا۔

وردوا الی اللہ مولھم الحق اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے ‘ لوٹائے جائیں گے۔ یعنی اللہ کے فیصلہ کی طرف یا اللہ کے عذاب کی طرف۔ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ ہی حقیقت میں ان کا مالک اور ان کے امور کا ذمہ دار ہے ‘ وہ معبود مالک نہیں جن کو کافروں نے معبود بنا رکھا ہے۔

ایک شبہ : کافروں کا تو کوئی مولیٰ نہیں ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاَنَّ الْکَافِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَھُمُ ۔

ازالہ : آیت زیر بحث میں مولیٰ کا معنی ہے رب اور مالک اور لاَ مَوْلٰی لَھُمُ میں مولیٰ کا معنی ہے مددگار اور حمایتی۔

وضل عنھم ما کانوا یفترون۔ اور جو معبود انہوں نے (از خود) تراش رکھے تھے ‘ وہ سب غائب ہوجائیں گے ‘ کھو جائیں گے (کوئی بھی ان کا ساتھی نہ ہوگا) یَفْتَرُوْنَکا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو شفیع سمجھے ہوئے تھے ‘ یا ان معبودیت کے مدعی تھے۔