تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ٣٢:١٠

٣٢:١٠
فذالكم الله ربكم الحق فماذا بعد الحق الا الضلال فانى تصرفون ٣٢
فَذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ ٱلْحَقِّ إِلَّا ٱلضَّلَـٰلُ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ ٣٢
فَذَٰلِكُمُ
ٱللَّهُ
رَبُّكُمُ
ٱلۡحَقُّۖ
فَمَاذَا
بَعۡدَ
ٱلۡحَقِّ
إِلَّا
ٱلضَّلَٰلُۖ
فَأَنَّىٰ
تُصۡرَفُونَ
٣٢
فذلكم الله ربكم هو الحق الذي لا ريب فيه، المستَحِق للعبادة وحده لا شريك له، فأي شيء سوى الحق إلا الضلال؟ فكيف تُصْرَفون عن عبادته إلى عبادة ما سواه؟
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 10:32إلى 10:33

فذلکم اللہ بس یہ (تمام امور سر انجام دینے والا) ہی تو اللہ ہے جو معبود ہونے کا مستحق ہے۔

ربکم الحق جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ جس کی ربوبیت وجدان سے بھی ثابت ہے اور دلیل سے بھی۔ جب اسی نے تم کو پیدا کیا ‘ رزق دیا اور تمہارے سارے امور کا انتظام کیا تو اس کے سوا اور تمہارا رب کون ہو سکتا ہے ‘ وہی حق ہے۔ نہ اس کی ہستی قابل شک ہے نہ اس کی مالکیت لائق شبہ۔

فماذا بعد الحق الا الضلل پھر (امر) حق کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا رہ گیا۔ سوال انکاری ہے یعنی حق کے بعدگمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ پس حق کو ترک کرنے والا اور اللہ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک کرنے والا گمراہ ہے۔

فانی تصرفون۔ پھر (حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف) کہاں پھرے جاتے ہو۔