تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ٣٣:١٠

٣٣:١٠
كذالك حقت كلمت ربك على الذين فسقوا انهم لا يومنون ٣٣
كَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى ٱلَّذِينَ فَسَقُوٓا۟ أَنَّهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ٣٣
كَذَٰلِكَ
حَقَّتۡ
كَلِمَتُ
رَبِّكَ
عَلَى
ٱلَّذِينَ
فَسَقُوٓاْ
أَنَّهُمۡ
لَا
يُؤۡمِنُونَ
٣٣
كما كفر هؤلاء المشركون واستمرُّوا على شركهم، حقت كلمة ربك وحكمه وقضاؤه على الذين خرجوا عن طاعة ربهم إلى معصيته وكفروا به أنَّهم لا يصدقون بوحدانية الله، ولا بنبوة نبيِّه محمد صلى الله عليه وسلم، ولا يعملون بهديه.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 10:32إلى 10:33

فذلکم اللہ بس یہ (تمام امور سر انجام دینے والا) ہی تو اللہ ہے جو معبود ہونے کا مستحق ہے۔

ربکم الحق جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ جس کی ربوبیت وجدان سے بھی ثابت ہے اور دلیل سے بھی۔ جب اسی نے تم کو پیدا کیا ‘ رزق دیا اور تمہارے سارے امور کا انتظام کیا تو اس کے سوا اور تمہارا رب کون ہو سکتا ہے ‘ وہی حق ہے۔ نہ اس کی ہستی قابل شک ہے نہ اس کی مالکیت لائق شبہ۔

فماذا بعد الحق الا الضلل پھر (امر) حق کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا رہ گیا۔ سوال انکاری ہے یعنی حق کے بعدگمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ پس حق کو ترک کرنے والا اور اللہ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک کرنے والا گمراہ ہے۔

فانی تصرفون۔ پھر (حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف) کہاں پھرے جاتے ہو۔