تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ٣٨:١٠

٣٨:١٠
ام يقولون افتراه قل فاتوا بسورة مثله وادعوا من استطعتم من دون الله ان كنتم صادقين ٣٨
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا۟ بِسُورَةٍۢ مِّثْلِهِۦ وَٱدْعُوا۟ مَنِ ٱسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٣٨
أَمۡ
يَقُولُونَ
ٱفۡتَرَىٰهُۖ
قُلۡ
فَأۡتُواْ
بِسُورَةٖ
مِّثۡلِهِۦ
وَٱدۡعُواْ
مَنِ
ٱسۡتَطَعۡتُم
مِّن
دُونِ
ٱللَّهِ
إِن
كُنتُمۡ
صَٰدِقِينَ
٣٨
بل أيقولون: إن هذا القرآن افتراه محمد من عند نفسه؟ فإنهم يعلمون أنه بشر مثلهم!! قل لهم -أيها الرسول-: فأتوا أنتم بسورة واحدة من جنس هذا القرآن في نظمه وهدايته، واستعينوا على ذلك بكل مَن قَدَرْتم عليه من دون الله من إنس وجن، إن كنتم صادقين في دعواكم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ام یقولون افتراہ قل فاتوا بسورۃ مثلہ کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے ازخود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ پھر تم بھی اس کی طرح ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ یعنی اگر میں نے اس کو ازخود بنا لیا ہے تو تم بھی کوئی ایک سورت ہی ایسی بنا لاؤ جو بلاغت ‘ اسلوب عبات اور قوت معنی میں قرآن کی طرح ہو۔ آخر تم بھی میری طرح عرب اور قادر الکلام اور عبارت و اسلوب کے ماہر ہو۔

وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین۔ اور اللہ کے علاوہ (اپنے مددگاروں میں سے) جس کو تم (اپنی مدد کیلئے) بلا سکتے ہو بلا لو ‘ اگر تم سچے ہو کہ محمد (ﷺ) نے اس کو خود بنا لیا ہے۔ اس آیت میں قرآن کی عبارت اور معانی پر غور کرنے اور مناظرہ کیلئے مددگاروں کو بلانے کی دعوت دی گئی ہے ‘ اسلئے آگے فرمایا :