تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ٤٣:١٠

٤٣:١٠
ومنهم من ينظر اليك افانت تهدي العمي ولو كانوا لا يبصرون ٤٣
وَمِنْهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تَهْدِى ٱلْعُمْىَ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يُبْصِرُونَ ٤٣
وَمِنۡهُم
مَّن
يَنظُرُ
إِلَيۡكَۚ
أَفَأَنتَ
تَهۡدِي
ٱلۡعُمۡيَ
وَلَوۡ
كَانُواْ
لَا
يُبۡصِرُونَ
٤٣
ومِنَ الكفار مَن ينظر إليك وإلى أدلة نبوتك الصادقة، ولكنه لا يبصر ما آتاك الله من نور الإيمان، أفأنت -أيها الرسول- تقدر على أن تخلق للعمي أبصارًا يهتدون بها؟ فكذلك لا تقدر على هدايتهم إذا كانوا فاقدي البصيرة، وإنما ذلك كلُّه لله وحده.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ومنھم من ینظر الیک اور ان میں سے کچھ لوگ آپ کی طرف اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ‘ سچائی کی نشانیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ علامات نبوی ان کو نظر آتی ہیں لیکن ان کے دل نابینا ہیں۔ قلبی بینائی نہ ہونے کی وجہ سے تصدیق نہیں کرتے (گویا وہ اندھے بھی ہیں اور بےبصیرت بھی) ۔

افانت تھدی العمی ولو کانوا لا یبصرون۔ تو کیا آپ اندھوں کو راہ دکھا دیں گے خواہ وہ (بےبصر ہونے کے ساتھ) بےبصیرت بھی ہوں۔ مفقود البصر اگر معدوم البصیرت بھی ہو تو اس کو راستہ کیسے نظر آسکتا ہے۔

ایمان نہ لانے والے کافروں سے بیزاری ظاہر کرنے اور رخ پھیر لینے کا سابق آیت میں حکم دیا تھا۔ ان دونوں جملوں میں اس حکم کی علت بھی بیان فرما دی جس سے رسول اللہ (ﷺ) کو تسلی دینا بھی مقصود ہے کہ وہ بہرے جن میں شنوائی کی طاقت ہی نہ ہو اور وہ اندھے جو معدوم البصیرت ہوں ‘ ان کو تم سنا سکتے ہو نہ راہ دکھا سکتے ہو۔ پس جن کو میں نے ایمان سے محروم کردیا ہے ‘ تم ان کو توفیق ایمان نہیں دے سکتے۔