تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ٤٥:١٠

٤٥:١٠
ويوم يحشرهم كان لم يلبثوا الا ساعة من النهار يتعارفون بينهم قد خسر الذين كذبوا بلقاء الله وما كانوا مهتدين ٤٥
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةًۭ مِّنَ ٱلنَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ ۚ قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ ٤٥
وَيَوۡمَ
يَحۡشُرُهُمۡ
كَأَن
لَّمۡ
يَلۡبَثُوٓاْ
إِلَّا
سَاعَةٗ
مِّنَ
ٱلنَّهَارِ
يَتَعَارَفُونَ
بَيۡنَهُمۡۚ
قَدۡ
خَسِرَ
ٱلَّذِينَ
كَذَّبُواْ
بِلِقَآءِ
ٱللَّهِ
وَمَا
كَانُواْ
مُهۡتَدِينَ
٤٥
ويوم يَحشر الله هؤلاء المشركين يوم البعث والحساب، كأنهم قبل ذلك لم يمكثوا في الحياة الدنيا إلا قدر ساعة من النهار، يعرف بعضهم بعضًا كحالهم في الدنيا، ثم انقطعت تلك المعرفة وانقضت تلك الساعة. قد خسر الذين كفروا وكذَّبوا بلقاء الله وثوابه وعقابه، وما كانوا موفَّقين لإصابة الرشد فيما فعلوا.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا الا ساعۃ من النھار اور جس روز ہم ان کو جمع کریں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ (دنیا میں یا قبروں میں) ان کا قیام گویا گھڑی بھر رہا تھا۔ منظر کی ہولناکی کی وجہ سے وہ دنیوی زندگی یا قیام قبر کی میعاد کو گھڑی بھر سمجھیں گے۔

یتعارفون بینھم باہم ایک دوسرے کو پہچان لیں گے ‘ جیسے دنیا میں ان کا باہمی تعارف تھا۔ گویا تھوڑی دیر کو جدا ہوئے تھے ‘ پھر جمع ہوگئے (اور کوئی کسی کو نہیں بھولا) بغوی نے لکھا ہے : یہ باہمی شناخت قبروں سے اٹھنے کے وقت تو ہوگی ‘ پھر قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے باہم تعارف جاتا رہے گا۔ بعض آثار میں آیا ہے کہ آدمی اپنے برابر والے کو پہچان تو لے گا مگر ہیبت اور خوف کی وجہ سے اس سے بات نہیں کرے گا۔

قد خسر الذین کذبوا بلقاء اللہ (منکرین حشر باہم تعارف کے دوران کہیں گے کہ آج) گھاٹے میں پڑگئے جنہوں نے قیامت کا (اور اللہ کے سامنے جانے کا) انکار کیا تھا۔ یا یہ اللہ کی طرف سے شہادت ہے (کافروں کا قول نہ ہوگا) ایمان چھوڑ کر کفر کو اختیار کرنا اور جنت کی جگہ جہنم نصیب ہونا بڑا گھاٹا ہے۔

وما کانوا مھتدین۔ اور نہ تھے وہ ہدایت پانے والے کہ حصول معرفت وسعادت کے جو آلات ان کو دئیے گئے تھے ‘ ان کو صحیح طور پر استعمال کرتے۔ اس جملہ میں تعجب کا مضمون ہے۔