تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: يونس ٦٥:١٠

٦٥:١٠
ولا يحزنك قولهم ان العزة لله جميعا هو السميع العليم ٦٥
وَلَا يَحْزُنكَ قَوْلُهُمْ ۘ إِنَّ ٱلْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ۚ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ٦٥
وَلَا
يَحۡزُنكَ
قَوۡلُهُمۡۘ
إِنَّ
ٱلۡعِزَّةَ
لِلَّهِ
جَمِيعًاۚ
هُوَ
ٱلسَّمِيعُ
ٱلۡعَلِيمُ
٦٥
ولا يحزنك -أيها الرسول- قول المشركين في ربهم وافتراؤهم عليه وإشراكهم معه الأوثان والأصنام; فإن الله تعالى هو المتفرد بالقوة الكاملة والقدرة التامة في الدنيا والآخرة، وهو السميع لأقوالهم، العليم بنياتهم وأفعالهم.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

ولا یحزنک قولھم ان کا قول آپ کو رنجیدہ نہ کرے (آپ ان کی باتوں سے غمگین نہ ہوں) قول سے مراد ہے

کلمۂ شرک اور رسول اللہ (ﷺ) کی تکذیب اور دکھ پہنچانے کی دھمکیاں۔

ان العزۃ اللہ جمیعًا کیونکہ غلبہ تو سارا کا سارا اللہ ہی کو حاصل ہے (ساری طاقت اسی کو حاصل ہے) کسی کے قبضہ میں کوئی چیز نہیں۔ اللہ سب پر غالب ہے ‘ وہی آپ کی مدد کرے گا اور کامیاب فرمائے گا۔

ھو السمیع العلیم۔ وہی (ان کے اقوال کو) سننے والا (اور ان کی نیتوں کو) جاننے والا ہے۔ یعنی ان کو خود سزا دے گا۔