Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: As-Saffat 37:57

37:57
ولولا نعمة ربي لكنت من المحضرين ٥٧
وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّى لَكُنتُ مِنَ ٱلْمُحْضَرِينَ ٥٧
وَلَوۡلَا
نِعۡمَةُ
رَبِّي
لَكُنتُ
مِنَ
ٱلۡمُحۡضَرِينَ
٥٧
Had it not been for the grace of my Lord, I ˹too˺ would have certainly been among those brought ˹to Hell˺.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 37:50 to 37:61

جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔

آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔