سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
30:40
الله الذي خلقكم ثم رزقكم ثم يميتكم ثم يحييكم هل من شركايكم من يفعل من ذالكم من شيء سبحانه وتعالى عما يشركون ٤٠
ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۖ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَفْعَلُ مِن ذَٰلِكُم مِّن شَىْءٍۢ ۚ سُبْحَـٰنَهُۥ وَتَعَـٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ ٤٠
اَللّٰهُ
الَّذِیْ
خَلَقَكُمْ
ثُمَّ
رَزَقَكُمْ
ثُمَّ
یُمِیْتُكُمْ
ثُمَّ
یُحْیِیْكُمْ ؕ
هَلْ
مِنْ
شُرَكَآىِٕكُمْ
مَّنْ
یَّفْعَلُ
مِنْ
ذٰلِكُمْ
مِّنْ
شَیْءٍ ؕ
سُبْحٰنَهٗ
وَتَعٰلٰى
عَمَّا
یُشْرِكُوْنَ
۟۠
আল্লাহ্ই তোমাদেরকে সৃষ্টি করেছেন, অতঃপর তোমাদেরকে রিযক দিয়েছেন, অতঃপর তিনি তোমাদের মৃত্যু ঘটাবেন, অতঃপর তোমাদেরকে জীবিত করবেন। তোমরা যাদেরকে (আল্লাহর) অংশীদার মান্য কর তাদের মধ্যে কেউ আছে কি এ সবের কোন কিছু করতে পারে? তারা যাদেরকে অংশীদার গণ্য করে আল্লাহ তাদের থেকে পবিত্র, বহু ঊর্ধ্বে।
تفاسیر
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 30:40 سے 30:42 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

ایک انسان کا پیدا ہونا، اس کو صبح وشام کا رزق ملنا، اس پر موت واقع ہونا، یہ واقعات اتنے عظیم ہیں کہ ان کے ظہور کےلیے کائناتی قوت درکار ہے۔ اور خالق کائنات کے سوا کوئی بھی مفروضہ ہستی ایسی نہیں جو اس قسم کی کائناتی قوت رکھتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ توحید اپنی دلیل آپ ہے اور شرک اپنی تردید آپ۔

اگر انسان ایک خدا کو اپنا معبود بنائے تو سب کا مرکز توجہ ایک ہوتاہے۔ اس سے انسانوں کے درمیان اتحادکی فضا پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب دوسرے دوسرے معبود بنائے جانے لگیں تو بے شمار چیزیں مرکز توجہ بن جاتی ہیں۔ اس سے افراد اور قوموں میں عناد اور اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ خشکی اور سمندر اور فضا سب فساد سے بھر جاتے ہیں۔

انسان کی بے راہ روی کا مستقل انجام موت کے بعد سامنے آنے والا ہے۔ مگر انسان کی بے راہ روی کا وقتی انجام اسی دنیا میں دکھایا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو یاد دہانی ہو۔