Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: As-Saffat 37:87

37:87
فما ظنكم برب العالمين ٨٧
فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٨٧
فَمَا
ظَنُّكُم
بِرَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
٨٧
What then do you expect from the Lord of all worlds?”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 37:83 to 37:87

حضرت ابراہیم بھی اسی دین پر تھے جس دین پر حضرت نوح تھے۔ تمام نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک رہی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچے۔

قلب سلیم کے معنی ہیں پاک دل۔ یعنی آفات سے محفوظ دل۔ یہی اصل چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے۔ اللہ نے انسان کو فطرت صحیح پر پیدا کرکے دنیا میں بھیجا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ دنیا کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر قسم کی نفسی اور شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔

شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔