Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Furqan 25:15

25:15
قل اذالك خير ام جنة الخلد التي وعد المتقون كانت لهم جزاء ومصيرا ١٥
قُلْ أَذَٰلِكَ خَيْرٌ أَمْ جَنَّةُ ٱلْخُلْدِ ٱلَّتِى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَ ۚ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءًۭ وَمَصِيرًۭا ١٥
قُلۡ
أَذَٰلِكَ
خَيۡرٌ
أَمۡ
جَنَّةُ
ٱلۡخُلۡدِ
ٱلَّتِي
وُعِدَ
ٱلۡمُتَّقُونَۚ
كَانَتۡ
لَهُمۡ
جَزَآءٗ
وَمَصِيرٗا
١٥
Say, ˹O Prophet,˺ “Is this better or the Garden of Eternity which the righteous have been promised, as a reward and ˹an ultimate˺ destination?
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 25:10 to 25:16

حق کے مخالفین اکثر حق کے داعی کی ذات کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ داعی کو غیر معتبر ثابت کرنے کے ليے طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ اس طرح وہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ حق کا داعی اگر ان کے معیار پر ہوتاہے تو وہ اس کی بات مان لیتے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ ان کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حق کا داعی ان کو قابل اعتبار نظر نہیں آتا۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ قیامت کی پکڑ سے بے خوف ہیں، اس ليے وہ غیر ذمہ دارانہ طورپر طرح طرح کے الفاظ بولتے رہتے ہیں۔

حق اور ناحق کے معاملہ کی ساری اہمیت اس بنا پر ہے کہ آخرت میں اس کی بابت پوچھ ہوگی۔ جو لوگ آخرت کی پکڑ کے بارے میں بے خوف ہوجائیں وہ اس کے بالکل لازمی نتیجہ کے طورپر حق اور ناحق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں رہتے۔ اور جس چیز کے بارے میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کی اہمیت کو کسی طرح محسوس نہیں کرسکتا، خواہ اس کے حق میں کتنی ہی زیادہ دلیلیں دے دی جائیں۔ ایسے لوگوں کے الفاظ صرف اس وقت ختم ہوں گے جب کہ قیامت کی چنگھاڑ ان سے ان کے الفاظ چھین لے۔