Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: As-Saffat 37:144

37:144
للبث في بطنه الى يوم يبعثون ١٤٤
لَلَبِثَ فِى بَطْنِهِۦٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ١٤٤
لَلَبِثَ
فِي
بَطۡنِهِۦٓ
إِلَىٰ
يَوۡمِ
يُبۡعَثُونَ
١٤٤
he would have certainly remained in its belly until the Day of Resurrection.1
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 37:139 to 37:148

حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔

اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔