Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Qaf 50:45

50:45
نحن اعلم بما يقولون وما انت عليهم بجبار فذكر بالقران من يخاف وعيد ٤٥
نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍۢ ۖ فَذَكِّرْ بِٱلْقُرْءَانِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ ٤٥
نَّحۡنُ
أَعۡلَمُ
بِمَا
يَقُولُونَۖ
وَمَآ
أَنتَ
عَلَيۡهِم
بِجَبَّارٖۖ
فَذَكِّرۡ
بِٱلۡقُرۡءَانِ
مَن
يَخَافُ
وَعِيدِ
٤٥
We know best what they say. And you ˹O Prophet˺ are not ˹there˺ to compel them ˹to believe˺. So remind with the Quran ˹only˺ those who fear My warning.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

قرآن میں بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ تمہارا کام صرف پہنچا دینا ہے تمہارا کام لوگوں کو بدلنا نہیں ہے۔ دوسری طرف قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ خدا تمہارے ذریعہ سے دین حق کو تمام دینوں پر غالب کرے گا۔

یہ دو بات در اصل پیغمبر اسلام کی دو مختلف حیثیتوں کے اعتبار سے ہے۔ آپ ایک اعتبار سے ’’رسول اللہ‘‘تھے۔ دوسرے اعتبار سے آپ ’’خاتم النبیین‘‘ تھے۔ رسول اللہ ہونے کی حیثیت سے آپ کا کام وہی تھا جو تمام پیغمبروں کا تھا۔ یعنی امر حق کو لوگوں تک پوری طرح پہنچا دینا۔ مگر خاتم النبیین ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کو یہ بھی مطلوب تھا کہ آپ کے ذریعہ سے وہ اسباب پیدا کیے جائیں جو ہدایت الٰہی کو مستقل طور پر محفوظ کردیں۔ تاکہ دوبارہ پیغمبر بھیجنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ آپ کی اس دوسری حیثیت کا تقاضا تھا کہ آپ کے ذریعہ سے وہ انقلاب لایا جائے جو شرک کے غلبہ کو ختم کردے اور اسلام کو ایک ایسی غالب قوت کی حیثیت سے قائم کردے جو ہمیشہ کے لیے ہدایت الٰہی کی حفاظت کی ضمانت بن جائے۔