Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Adh-Dhariyat 51:11

51:11
الذين هم في غمرة ساهون ١١
ٱلَّذِينَ هُمْ فِى غَمْرَةٍۢ سَاهُونَ ١١
ٱلَّذِينَ
هُمۡ
فِي
غَمۡرَةٖ
سَاهُونَ
١١
those who are ˹steeped˺ in ignorance, totally heedless.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 51:10 to 51:19

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔ جو لوگ ایک بات کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہوں وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے۔ اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اس کا مذاق اڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور وفکر کا موضوع سمجھا جائے۔ ایسے لوگوں کو منوانا کسی طرح ممکن نہیں۔ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب کہ ان کی غلط روش ایک ایسا عذاب بن کر ان کے اوپر ٹوٹ پڑے جس سے چھٹکارا پانا کسی طرح ان کے لیے ممکن نہ ہو۔

سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ ان کی سنجیدگی ان کو محتاط بنا دیتی ہے۔ ان سے سرکشی کا مزاج رخصت ہوجاتا ہے۔ ان کا بڑھا ہوا احساس انہیں راتوں کو بھی بیدار رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ان کے اوقات خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مال کو اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کو خدا کا عطیہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس میں دوسروں کا بھی حق سمجھنے لگتے ہیں جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔