Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Isra 17:102

17:102
قال لقد علمت ما انزل هاولاء الا رب السماوات والارض بصاير واني لاظنك يا فرعون مثبورا ١٠٢
قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ أَنزَلَ هَـٰٓؤُلَآءِ إِلَّا رَبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ بَصَآئِرَ وَإِنِّى لَأَظُنُّكَ يَـٰفِرْعَوْنُ مَثْبُورًۭا ١٠٢
قَالَ
لَقَدۡ
عَلِمۡتَ
مَآ
أَنزَلَ
هَٰٓؤُلَآءِ
إِلَّا
رَبُّ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
بَصَآئِرَ
وَإِنِّي
لَأَظُنُّكَ
يَٰفِرۡعَوۡنُ
مَثۡبُورٗا
١٠٢
Moses replied, “You know well that none has sent these ˹signs˺ down except the Lord of the heavens and the earth as insights. And I really think that you, O  Pharaoh, are doomed.”
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 17:101 to 17:104

فرعون کے سامنے کھلی ہوئی نشانیاں پیش کی گئیں تو اس نے کہا کہ یہ ’’جادو‘‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کی طرف سے خواہ کتنی ہی طاقت ور دلیل اور کتنی ہی بڑی نشانی پیش کردی جائے، انسان کے لیے یہ دروازہ بند نہیں ہوتا کہ وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردے — وہ خدائی نشانی کو انسانی جادو کہہ دے۔ وہ علمی دلیل کو ناقص مطالعہ کہہ کر ٹال دے۔ وہ واضح قرائن کو غیر معقول کہہ کر نظر انداز کردے۔

حق کے مخالفین جب لفظی مخالفت سے حق کی آواز دبانے میں کامیاب نہیں ہوتے تو وہ جارحانہ کارروائیوں پر اتر آتے ہیں۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کسی انسان کا معاملہ نہیں۔ بلکہ خدا کا معاملہ ہے اور کون ہے جو خدا کے ساتھ جارحیت کرکے کامیاب ہو۔