Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Isra 17:27

17:27
ان المبذرين كانوا اخوان الشياطين وكان الشيطان لربه كفورا ٢٧
إِنَّ ٱلْمُبَذِّرِينَ كَانُوٓا۟ إِخْوَٰنَ ٱلشَّيَـٰطِينِ ۖ وَكَانَ ٱلشَّيْطَـٰنُ لِرَبِّهِۦ كَفُورًۭا ٢٧
إِنَّ
ٱلۡمُبَذِّرِينَ
كَانُوٓاْ
إِخۡوَٰنَ
ٱلشَّيَٰطِينِۖ
وَكَانَ
ٱلشَّيۡطَٰنُ
لِرَبِّهِۦ
كَفُورٗا
٢٧
Surely the wasteful are ˹like˺ brothers to the devils. And the Devil is ever ungrateful to his Lord.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 17:26 to 17:28

ہر آدمی جو کچھ اپنی محنت سے کماتا ہے اس کو وہ اپنے اوپر خرچ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم شریعت کا حکم ہے کہ وہ فضول خرچی سے بچے۔وہ اپنے مال کو اپنی واقعی ضرورتوں میں خرچ کرے، نہ کہ فخر اور نمائش کے لیے۔

دوسری بات یہ کہ ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنی کمائی میں دوسرے ضرورت مندوں کا بھی حق سمجھے۔ خواہ وہ رشتہ دار ہوں یا اس کے پڑوسی ہوں۔ مسافر ہوں یا اور کسی قسم کے حاجت مند ہوں۔

بعض مرتبہ ایسا ہوتاہے کہ آدمی محتاج کو دینے کے قابل نہیں ہوتا۔ تاہم اس وقت کے لیے بھی حکم ہے کہ اگر تم مال دینے کے قابل نہیں تو اپنے ضرورت مند بھائی کو نرم بات دو اور اس سے معافی کا کلمہ کہو۔ کیوں کہ وہ تم کو ایک نیکی کا موقع دینے آیا تھا مگر تم اس موقع کو اپنے لیے استعمال نہ کرسکے۔

اپنے کمائے ہوئے مال کو خدا کی مرضی کے مطابق خرچ کرنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے، جو اپنے مال کو بے فائدہ مدوں میں ضائع ہونے سے بچائے۔ ورنہ اس کے پاس مال ہی نہ ہوگا جس کو وہ خدا کے راستوں میں دے۔ حقیقت یہ ہے کہ فضول خرچی شیطان کا ایک حربہ ہے جس کے ذریعہ سے وہ صاحبِ مال کو اس قابل نہیں رکھتا کہ وہ دوسرے ضرورت مندوں کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرسکے۔