Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Kahf 18:79

18:79
اما السفينة فكانت لمساكين يعملون في البحر فاردت ان اعيبها وكان وراءهم ملك ياخذ كل سفينة غصبا ٧٩
أَمَّا ٱلسَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَـٰكِينَ يَعْمَلُونَ فِى ٱلْبَحْرِ فَأَرَدتُّ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٌۭ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًۭا ٧٩
أَمَّا
ٱلسَّفِينَةُ
فَكَانَتۡ
لِمَسَٰكِينَ
يَعۡمَلُونَ
فِي
ٱلۡبَحۡرِ
فَأَرَدتُّ
أَنۡ
أَعِيبَهَا
وَكَانَ
وَرَآءَهُم
مَّلِكٞ
يَأۡخُذُ
كُلَّ
سَفِينَةٍ
غَصۡبٗا
٧٩
“As for the ship, it belonged to some poor people, working at sea. So I intended to damage it, for there was a ˹tyrant˺ king ahead of them who seizes every ˹good˺ ship by force.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
اللہ کی مصلحتوں کی وضاحت ٭٭

بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کے انجام سے خضر علیہ السلام کو مطلع کر دیا تھا اور انہیں جو حکم ملا تھا، وہ انہوں نے کیا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کو اس راز کا علم نہ تھا اس لیے بظاہر اسے خلاف سمجھ کر اس پر انکار کرتے تھے لہٰذا خضر علیہ السلام نے اب اصل معاملہ سمجھا دیا۔ فرمایا کہ کشتی کو عیب دار کرنے میں تو یہ مصلحت تھی کہ اگر صحیح سالم ہوتی تو آگے چل کر ایک ظالم بادشاہ تھا جو ہر ایک اچھی کشتی کو ظلما چھین لیتا تھا۔ جب اسے وہ ٹوٹی پھوٹی دیکھے گا تو چھوڑ دے گا۔ اگر یہ ٹھیک ٹھاک اور ثابت ہوتی تو ساری کشتی ہی ان مسکینوں کے ہاتھ سے چھن جاتی اور ان کی روزی کمانے کا یہی ایک ذریعہ تھا جو بالکل جاتا رہتا۔ مروی ہے کہ اس کشتی کے مالک چند یتیم بچے تھے۔ ابن جریج کہتے ہیں اس بادشاہ کا نام حدوبن بدو تھا۔ بخاری شریف کے حوالے سے یہ راویت پہلے گزر چکی ہے۔ تورات میں ہے کہ یہ عیص بن اسحاق کی نسل سے تھا، توراۃ میں جن بادشاہوں کا صریح ذکر ہے ان میں ایک یہ بھی ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر4963