Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Al-Mu'minun 23:117

23:117
ومن يدع مع الله الاها اخر لا برهان له به فانما حسابه عند ربه انه لا يفلح الكافرون ١١٧
وَمَن يَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَـٰهًا ءَاخَرَ لَا بُرْهَـٰنَ لَهُۥ بِهِۦ فَإِنَّمَا حِسَابُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْكَـٰفِرُونَ ١١٧
وَمَن
يَدۡعُ
مَعَ
ٱللَّهِ
إِلَٰهًا
ءَاخَرَ
لَا
بُرۡهَٰنَ
لَهُۥ
بِهِۦ
فَإِنَّمَا
حِسَابُهُۥ
عِندَ
رَبِّهِۦٓۚ
إِنَّهُۥ
لَا
يُفۡلِحُ
ٱلۡكَٰفِرُونَ
١١٧
Whoever invokes, besides Allah, another god—for which they can have no proof—they will surely find their penalty with their Lord. Indeed, the disbelievers will never succeed.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 23:115 to 23:118

انسانوں میں دو قسم کے انسان ہیں۔ کوئی انسان با اصول زندگی گزارتا ہے۔ اورکوئی بے اصول۔ کوئی اَن دیکھی صداقت کے ليے اپنے آپ کو قربان کردیتاہے اور کوئی صرف دکھائی دینے والی چیزوں میں مشغول رہتا ہے۔ کوئی حق کی دعوت کو اس کی ساری اجنبیت کے باوجود قبول کرتا ہے۔ اور کوئی اس کو نظر انداز کردیتا ہے اور اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ کوئی اپنے آپ کو ظلم سے روکتا ہے، صرف اس ليے کہ خدا نے اس کو ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔ کوئی موقع پاتے ہی دوسروں کے ليے ظالم بن جاتا ہے۔ کیوں کہ اس کا نفس اس سے ایسا ہی کرنے کے ليے کہہ رہا ہے۔

اگر اس دنیا کا کوئی انجام نہ ہو، اگر وہ اسی طرح چلتی رہے اور اسی طرح بالآخر اس کا خاتمہ ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بے مقصد ہنگامہ کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ مگر کائنات کی معنویت اس قسم کے بے معنیٰ نظریہ کی تردید کرتی ہے۔ کائنات کا اعلیٰ نظام اس سے انکار کرتا ہے کہ اس کا خالق ایک غیر سنجیدہ ہستی ہو۔

کائنات اپنے وسیع نظام کے ساتھ جس خالق کا تعارف کرارہی ہے وہ ایک ایسا خالق ہے جو اپنی ذات میں آخری حد تک کامل ہے۔ ایسے خالق کے بارے میں ناقابلِ قیاس ہے کہ وہ دو مختلف قسم کے انسانوں کا یکساں انجام ہوتے ہوئے دیکھے اور اس کو گوارا کرلے۔ یہ سراسر ناممکن ہے۔ یقیناً ایسا ہونے والا ہے کہ مالک کائنات ایک طبقہ کو بے قیمت کردے جس طرح انھوں نے حق کو بے قیمت کیا اور دوسرے طبقہ کی قدر دانی کرے جس طرح انھوں نے حق کی قدر دانی کی۔