Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: An-Nahl 16:58

16:58
واذا بشر احدهم بالانثى ظل وجهه مسودا وهو كظيم ٥٨
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِٱلْأُنثَىٰ ظَلَّ وَجْهُهُۥ مُسْوَدًّۭا وَهُوَ كَظِيمٌۭ ٥٨
وَإِذَا
بُشِّرَ
أَحَدُهُم
بِٱلۡأُنثَىٰ
ظَلَّ
وَجۡهُهُۥ
مُسۡوَدّٗا
وَهُوَ
كَظِيمٞ
٥٨
Whenever one of them is given the good news of a baby girl, his face grows gloomy, as he suppresses his rage.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 16:57 to 16:60

ایک خداکے سوا انسان نے دوسرے جو معبود بنائے ہیں ان میں دیوتا بھی ہیں اور دیویاں بھی۔ یہاں دیویوں کے عقیدے کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے ایک عام مثال دی گئی ہے۔ مرد کے مقابلہ میں عورت چونکہ کمزور ہوتی ہے، اس کے علاوہ عام حالات میں وہ اثاثہ سے زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے، اس لیے عام طورپر لوگ لڑکے کی پیدائش پر زیادہ خوش ہوتے ہیں۔اور لڑکی کی پیدائش پر کم۔ اب جب کہ لڑکے اور لڑکی میں یہ فرق ہے تو خدا اگر اپنے لیے اولاد پیدا کرتا تو وہ لڑکیاں کیوں پیدا کرتا۔

انسان کس لیے اولاد چاہتا ہے۔ اس لیے تاکہ وہ اس کے ذریعے سے اپنی کمی کو پورا کرسکے۔مگر خدا اس طرح کی کمیوں سے بلند ہے۔ خدا کی عظمت وقدرت جو اس کی کائنات میں ظاہر ہوئی ہے وہ بتاتی ہے کہ خدا اس سے بلند وبرتر ہے کہ اس کے اندر ایسی کوئی کمی ہو جس کی تلافی کے لیے وہ اپنے یہاں لڑکا اور لڑکی پیدا کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اگر کمیوں والا ہوتاتو وہ خدا ہی نہ ہوتا۔ خدا اسی لیے خدا ہے کہ وہ ہر قسم کی تمام کمیوں سے پاک ہے۔