Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Maryam 19:98

19:98
وكم اهلكنا قبلهم من قرن هل تحس منهم من احد او تسمع لهم ركزا ٩٨
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًۢا ٩٨
وَكَمۡ
أَهۡلَكۡنَا
قَبۡلَهُم
مِّن
قَرۡنٍ
هَلۡ
تُحِسُّ
مِنۡهُم
مِّنۡ
أَحَدٍ
أَوۡ
تَسۡمَعُ
لَهُمۡ
رِكۡزَۢا
٩٨
˹Imagine˺ how many peoples We have destroyed before them! Do you ˹still˺ see any of them, or ˹even˺ hear from them the slightest sound?
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 19:97 to 19:98

خدا کی کتاب انسان کی قابلِ فہم زبان میں ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے مضامین میں ان تمام پہلوؤں کی پوری رعایت موجود ہے جو کسی کتاب کو اس قابل بناتے ہیں کہ اس سے رہنمائی لي جا سکے۔ مگر ان سب کے باوجود قرآن انھیں لوگوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتا ہے جو سنجیدہ ہوں اور جن کو یہ کھٹک ہو کہ وہ حق اور ناحق کو جانیں۔ وہ ناحق سے بچیں اور حق کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ جو لوگ سنجیدگی اور طلب سے خالی ہوں وہ قرآن کی تعلیمات کو سن کر صرف بے معنی بحثیں کریں گے، وہ اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتے۔

جو لوگ دعوتِ حق کے مخالف بن کر کھڑے ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اس غلط فہمی میں رہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ان کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ ان کے گرد و پیش مخالفینِ حق کی تباہی کے واقعات موجود ہوتے ہیں مگر وہ ان سے عبرت نہیںلیتے۔ وہ آخر وقت تک یہی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لیے تھا۔ان کے اپنے ساتھ کچھ ہونے والا نہیں۔

مگر اللہ کے قانون میں کوئی استثناء نہیں۔ یہاں ہر آدمی کے ساتھ وہی ہونے والا ہے جو دوسرے کے ساتھ ہوا، اچھوں کے لیے اچھا اور بروں کے لیے برا۔