Sign in
Sign in
Sign in
Select Language

Tafsir: Muhammad 47:35

47:35
فلا تهنوا وتدعوا الى السلم وانتم الاعلون والله معكم ولن يتركم اعمالكم ٣٥
فَلَا تَهِنُوا۟ وَتَدْعُوٓا۟ إِلَى ٱلسَّلْمِ وَأَنتُمُ ٱلْأَعْلَوْنَ وَٱللَّهُ مَعَكُمْ وَلَن يَتِرَكُمْ أَعْمَـٰلَكُمْ ٣٥
فَلَا
تَهِنُواْ
وَتَدۡعُوٓاْ
إِلَى
ٱلسَّلۡمِ
وَأَنتُمُ
ٱلۡأَعۡلَوۡنَ
وَٱللَّهُ
مَعَكُمۡ
وَلَن
يَتِرَكُمۡ
أَعۡمَٰلَكُمۡ
٣٥
So do not falter or cry for peace, for you will have the upper hand and Allah is with you. And He will never let your deeds go to waste.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 47:33 to 47:35

ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض مسلمانوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اگر وہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کرلیں تو کوئی گناہ ان کو نقصان نہ پہنچائے گا۔ اس پر یہ آیت 33 اتری۔ اس کی روشنی میں آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو چاہيے کہ وہ ایمان کے ساتھ اطاعت کو جمع کرے۔ وہ نہ صرف بے ضرر احکام کی پیروی کرے بلکہ وہ ان احکام کا بھی پیرو بنے جن کے لیے اپنے نفس کو کچلنا اور اپنے مفاد کو خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کے سابقہ اعمال اس کو کچھ فائدہ نہیں دیں گے۔

کمزور مسلمانوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ حق کا ساتھ اس شرط پر دیتے ہیں کہ وقت کے بڑوں کی ناراضگی مول نہ لینی پڑے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ حق کا ساتھ دینا وقت کے بڑوں کو ناراض کرنے کا سبب بن رہا ہے تو وہ ان کی طرف جھک جاتے ہیں، خواہ یہ بڑے حق کے منکر ہوں اور خواہ وہ حق کو روکنے والے بنے ہوئے ہوں۔

جو لوگ حق کا انکار کریں اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوجائیں وہ کبھی اللہ کی رحمت نہیں پا سکتے۔ پھر جو لوگ ایسے منکرین کا ساتھ دیں، ان کا انجام ان سے مختلف کیوں ہوگا۔

اسلام میں جنگ بھی ہے اور صلح بھی۔ مگر وہ جنگ اسلامی جنگ نہیں جو اشتعال کی بنا پر لڑی جائے۔ اسی طرح وہ صلح بھی اسلامی صلح نہیں جس کا محرک بزدلی اور کم ہمتی ہو۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں چیزیں سوچے سمجھے فیصلہ کے تحت کی جائیں، نہ کہ محض جذباتی رد عمل کے تحت۔