وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Adh-Dhariyat ۲۹:۵۱

۲۹:۵۱
فاقبلت امراته في صرة فصكت وجهها وقالت عجوز عقيم ٢٩
فَأَقْبَلَتِ ٱمْرَأَتُهُۥ فِى صَرَّةٍۢ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌۭ ٢٩
فَأَقۡبَلَتِ
ٱمۡرَأَتُهُۥ
فِي
صَرَّةٖ
فَصَكَّتۡ
وَجۡهَهَا
وَقَالَتۡ
عَجُوزٌ
عَقِيمٞ
٢٩
همسرش با فریاد [و شگفتى] پیش آمد و در حالى كه به صورت خود مى‌زد گفت: «پیرزنى نازا [فرزند می‌زاید]؟!»
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

فاقبلت ........ عقیم (15 : 92) ” یہ سن کر ان کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہنے لگی بوڑھی بانجھ “ اس نے یہ خوشخبری سن لی تھی۔ اچان کہ یہ خوشخبری اس کی تو چیخ نکل گئی اور عورتوں کی عادت کے مطابق اس نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور یہ کہہ دیا میں بوڑھی ہوں بانجھ ہوں تو یہ سب امور اس کے لئے خوشگوار حیرت کے باعث ہوئے اور در حقیقت وہ بانجھ تھی اور یہ خبر اس کے لئے اچانک خوشی کی خبر تھی جس کی وہ کسی طرح توقع نہ کرتی تھی لیکن وہ یہ بات بھول گئی کہ یہ خوشخبری تو فرشتے دے رہے ہیں تو فرشتوں نے اسے متوجہ کیا کہ یہ تو قدرت الٰہیہ ہے اور جہاں میں تمام امور علم الٰہی کے مطابق رونما ہوتے ہیں۔