وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Ahzab ۲۵:۳۳

۲۵:۳۳
ورد الله الذين كفروا بغيظهم لم ينالوا خيرا وكفى الله المومنين القتال وكان الله قويا عزيزا ٢٥
وَرَدَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِغَيْظِهِمْ لَمْ يَنَالُوا۟ خَيْرًۭا ۚ وَكَفَى ٱللَّهُ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلْقِتَالَ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًۭا ٢٥
وَرَدَّ
ٱللَّهُ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
بِغَيۡظِهِمۡ
لَمۡ
يَنَالُواْ
خَيۡرٗاۚ
وَكَفَى
ٱللَّهُ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
ٱلۡقِتَالَۚ
وَكَانَ
ٱللَّهُ
قَوِيًّا
عَزِيزٗا
٢٥
و الله [سپاه] کسانی را که کفر ورزیده‌اند، بى‌آنكه به غنیمتی دست یابند، با [تمام حسرت و] خشم‌شان [از اطراف مدینه] برگرداند و الله مؤمنان را از جنگ بی‌نیاز ساخت؛ و الله همواره توانای شکست‌ناپذیر است.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

ورد اللہ الذین ۔۔۔۔۔۔ وکان اللہ قویا عزیزا (25) ” “۔ اس معرکے کا آغاز ہوا۔ یہ آگے بڑھا۔ اپنے انجام تک پہنچا لیکن پورے دور میں اس کی باگیں اللہ کے ہاتھ میں تھیں۔ جس طرح اللہ چاہتا تھا ، واقعات کا رخ موڑ دیتا تھا۔ قرآن کریم اپنے انداز تعبیر کے ذریعہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ جو بھی واقعات ہوئے ، وہ اللہ نے کرائے اور یہ بات اچھی طرح اہل ایمان کے دلوں میں بٹھا دی گئی۔ یوں اسلامی تصور حیات کو واضح کردیا گیا۔

اب اس لشکر کشی کا وبال صرف مشرکین قریش ، اور غطفان پر ہی نہ پڑا بلکہ مشرکین کے حلفاء بنی قریظہ بھی اس کی زد میں آگئے۔