وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-An'am ۱۳۵:۶

۱۳۵:۶
قل يا قوم اعملوا على مكانتكم اني عامل فسوف تعلمون من تكون له عاقبة الدار انه لا يفلح الظالمون ١٣٥
قُلْ يَـٰقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَامِلٌۭ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُۥ عَـٰقِبَةُ ٱلدَّارِ ۗ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ١٣٥
قُلۡ
يَٰقَوۡمِ
ٱعۡمَلُواْ
عَلَىٰ
مَكَانَتِكُمۡ
إِنِّي
عَامِلٞۖ
فَسَوۡفَ
تَعۡلَمُونَ
مَن
تَكُونُ
لَهُۥ
عَٰقِبَةُ
ٱلدَّارِۚ
إِنَّهُۥ
لَا
يُفۡلِحُ
ٱلظَّٰلِمُونَ
١٣٥
بگو: «ای قوم من، به شیوۀ خود عمل کنید [و بر کفر و گمراهی خود بمانید که] بی‌تردید، من [نیز به ایمان خویش] عمل می‌کنم؛ پس به زودی خواهید دانست که [پیروزی دنیا و] فرجامِ [نیکوی] آن سرا از آنِ کیست. بی‌گمان، ستمکاران [مشرک] رستگار نخواهند شد».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 6:132 تا 6:135

دنیا کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے مرتبہ میں فرق ہوتا ہے۔ یہ فرق ٹھیک اس تناسب سے ہوتا ہے جو ایک آدمی اور دوسرے آدمی کی جدوجہد میں پایا جاتا ہے۔ کسی آدمی کی دانش مندی، اس کی محنت، مصلحتوں کے ساتھ اس کی رعایت جس درجہ کی ہوتی ہے اسی درجہ کی کامیابی اس کو یہاں حاصل ہوتی ہے۔

ایسا ہی معاملہ آخرت کا بھی ہے۔ آخرت میں درجات اور مقامات کی تقسیم ٹھیک اسی تناسب سے ہوگی، جس تناسب سے کسی آدمی نے دنیا میں اس کے ليے عمل کیا ہے۔ آخرت کے ليے بھی آدمی کو اسی طرح وقت اور مال خرچ کرنا ہے، جس طرح وہ دنیا کے ليے اپنے وقت اور مال کو خرچ کرتاہے۔ آخرت کے معاملہ میں بھی اس کو اسی طرح ہوشیاری دکھانی ہے، جس طرح وہ دنیا کے معاملہ میں ہوشیاری دکھاتا ہے۔ آخرت کی باتوں میں بھی اس کو مصلحتوں اور نزاکتوں کی اسی طرح رعایت کرنا ہے جس طرح وہ دنیا کی باتوں میں مصلحتوں اور نزاکتوں کی رعایت کرتا ہے۔ جس خدا کے ہاتھ میں آخرت کا فیصلہ ہے وہ ایک ایک شخص کے احوال سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس کے ليے کچھ بھی مشکل نہ ہوگا کہ وہ ہر ایک کو وہی دے جو اس کے استحقاق کے بقدر اس کو ملنا چاہيے۔

خدا نے امتحان اور عمل کی یہ جو دنیا بنائی ہے اس کے ذریعہ اس نے انسان کے ليے ایک قیمتی امکان کھولا ہے۔ وہ چند دن کی زندگی میں اچھے عمل کا ثبوت دے کر ابدی زندگی میں اس کا انجام پاسکتا ہے۔ اس نظام کو قائم کرنے سے خدا کا اپنا کوئی فائدہ نہیں۔ موجودہ لوگ اگر اس کے تخلیقی منصوبہ کو قبول نہ کریں تو خدا کو اس کی پروا نہیں۔ وہ ان کی جگہ دوسروں کو اٹھا سکتا ہے، جو اس کے تخلیقی منصوبہ کو مانیں اور اپنے آپ کو اس کے ساتھ کریں۔ حتی کہ وہ ریگستان کے ذروں اور درخت کے پتوں کو اپنے وفادار بندوں کی حیثیت سے کھڑا کرسکتا ہے۔

ایک ایسی دنیا جو سراسر حق اور انصاف پر قائم ہو وہاں ظالموں اور سرکشوں کو چھوٹ ملنا خود ہی بتارہا ہے کہ یہ چھوٹ کوئی انعام نہیں ہے بلکہ ان کو ان کے آخری انجام تک پہنچانے کے لیے ہے۔ جو شخص حق کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور ا س کے باوجود بظاہر اس کا کچھ نہیں بگڑتا اس کو اس صورت حال پر خوش نہیں ہونا چاہیے۔ یہ حالت سراسر وقتی ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ آدمی سے وہ سب کچھ چھین لیا جائے جس کے بل پر وہ سرکشی کررہا ہے اور اس کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی بربادی میں ڈال دیا جائے جہاں سے کبھی اسے نکلنا نہ ہو۔جہاں نہ دوبارہ عمل کا موقع ہو اور نہ اپنے عمل کے انجام سے اپنے کو بچانے کا۔