وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Anbiya ۱۱۲:۲۱

۱۱۲:۲۱
قال رب احكم بالحق وربنا الرحمان المستعان على ما تصفون ١١٢
قَـٰلَ رَبِّ ٱحْكُم بِٱلْحَقِّ ۗ وَرَبُّنَا ٱلرَّحْمَـٰنُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ١١٢
قَٰلَ
رَبِّ
ٱحۡكُم
بِٱلۡحَقِّۗ
وَرَبُّنَا
ٱلرَّحۡمَٰنُ
ٱلۡمُسۡتَعَانُ
عَلَىٰ
مَا
تَصِفُونَ
١١٢
[پیامبر] گفت: «پروردگارا، [بین ما و کافران] به حق داوری کن؛ و پروردگار ما، [الله] رحمان است که در برابر آنچه [از کفر و شرک] می‌گویید از او یاری می‌خواهیم».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

قال رب احکم بالحق و ربنا الرحمٰن المستعان علی ماتصفون (21 : 112)

ترجمہ :۔

” آخر کار رسول نے کہا کہ اے رب حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور لوگو ! تم جو باتیں بناتے ہو ، ان کے مقابلے میں ہمارا رب رحمٰن ہی ہمارے لئے مدد کا سہارا ہے۔ “ آخر میں صفت رحمت کا ذکر خاص قابل توجہ ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا۔ لیکن لوگوں نے آپ کی تکذیب کی ، مذاق کیا ، اس لئے اللہ ہی رسول پر رحم کرسکتا ہے اور رحم و کرم کا ضامن ہے۔ اس طرح سورة کا آغاز اور انجام دونوں ایک ہی مضمون سے مملو ہوجاتے ہیں ، نہایت ہی موثر انداز میں۔