وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Anbiya ۴:۲۱

۴:۲۱
قال ربي يعلم القول في السماء والارض وهو السميع العليم ٤
قَالَ رَبِّى يَعْلَمُ ٱلْقَوْلَ فِى ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ ٤
قَالَ
رَبِّي
يَعۡلَمُ
ٱلۡقَوۡلَ
فِي
ٱلسَّمَآءِ
وَٱلۡأَرۡضِۖ
وَهُوَ
ٱلسَّمِيعُ
ٱلۡعَلِيمُ
٤
[پیامبر] گفت: «پروردگارم هر سخنی را که در آسمان و زمین باشد می‌داند و او شنوای داناست».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

قل ربی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (12 : 4) ” رسول نے کہا میرا بر ہر اس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں کی جائے اور وہ سمیع وعلیم ہے “۔ زمین کے جس حصے میں بھی تحریک اسلامی کے خلاف کوئی سرگوشی ہو ‘ اللہ تعالیٰ سنتا اور جانتا ہے کیونکہ اللہ تو وہ ہے جو زمین و آسمان میں بولے جانے والے تمام اقوال کو جانتا ہے اور اس کے ہاں وہ ریکارڈ ہوتے ہیں اور وہ جو سازشیں بھی پکائیں اللہ اپنے رسول کو پہلے سے بتا دیتا ہے کہ وہ سمیع وعلیم ہے۔

انہوں نے بہت سوچا کہ قرآن کے اثرات کو کس پروپیگنڈے سے روکیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سحر ہے۔ یہ ایک مخلوط قسم کی سوچ اور منتشر افکار ہیں ‘ جن کو محمد جمع کرکے پیش کرتا ہے ‘ کبھی شعر ‘ کبھی کہانت کیا کہا۔