وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Anfal ۳۴:۸

۳۴:۸
وما لهم الا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام وما كانوا اولياءه ان اولياوه الا المتقون ولاكن اكثرهم لا يعلمون ٣٤
وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَمَا كَانُوٓا۟ أَوْلِيَآءَهُۥٓ ۚ إِنْ أَوْلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُتَّقُونَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٣٤
وَمَا
لَهُمۡ
أَلَّا
يُعَذِّبَهُمُ
ٱللَّهُ
وَهُمۡ
يَصُدُّونَ
عَنِ
ٱلۡمَسۡجِدِ
ٱلۡحَرَامِ
وَمَا
كَانُوٓاْ
أَوۡلِيَآءَهُۥٓۚ
إِنۡ
أَوۡلِيَآؤُهُۥٓ
إِلَّا
ٱلۡمُتَّقُونَ
وَلَٰكِنَّ
أَكۡثَرَهُمۡ
لَا
يَعۡلَمُونَ
٣٤
و چرا الله آنان را [در آخرت‌] عذاب نكند، با اینكه آنان [مردم را] از [طواف و عبادت در] مسجدالحرام بازمى‌دارند؟ و [مشرکان] هرگز دوستان الله نبوده‌اند؛ [زیرا] دوستان الله کسی جز پرهیزگاران نیستند؛ ولى بیشتر آنان نمى‌دانند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

ان پر یہ عذاب اس لیے نہیں لیٹ ہورہا ہے جس کا وہ دعوی کرتے تھے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں یا وہ بیت اللہ کے متولی ہیں۔ یہ تو ان کا محض دعوی ہی دعوی تھا ، اس کی کوئی اساس نہ تھی۔ یہ لوگ در اصل اس گھر کے خادم اور متولی تھے ہی نہیں۔ یہ تو اس گھر کے دشمن تھے۔ انہوں نے زبردستی اس پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہ کوئی ترکہ تو تھا نہیں جو آباؤ اجداد سے وراثت میں لیا جاتا۔ بیت اللہ کی تولیت کا حق تو اللہ کے متقی بندوں کا حق ہے۔ ان کا یہ دعوی کہ وہ حضرت ابراہیم کے وارث ہیں ، یہ بھی غلط ہے۔ اس لیے کہ سچائی کا تعلق خون اور نسب سے نہیں ہوتا۔ سچائی میں وراثت تو دین اور عقیدے کی وراثت ہوتی ہے۔

کہ دریں راہ فلان ابن فلاں چیزی نیست

حضرت ابراہیم کے وارث تو اہل تقوی ہیں۔ حضرت ابراہیم نے اس گھر کو تعمیر کیا تاکہ لوگ اس کی زیارت کریں اور تم اس سے روکتے ہو اور تم نے اس کی تولیت کو بھی مستحق لوگوں سے چھین لیا ہے۔