وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-A'raf ۱۳۱:۷

۱۳۱:۷
فاذا جاءتهم الحسنة قالوا لنا هاذه وان تصبهم سيية يطيروا بموسى ومن معه الا انما طايرهم عند الله ولاكن اكثرهم لا يعلمون ١٣١
فَإِذَا جَآءَتْهُمُ ٱلْحَسَنَةُ قَالُوا۟ لَنَا هَـٰذِهِۦ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۭ يَطَّيَّرُوا۟ بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُۥٓ ۗ أَلَآ إِنَّمَا طَـٰٓئِرُهُمْ عِندَ ٱللَّهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ١٣١
فَإِذَا
جَآءَتۡهُمُ
ٱلۡحَسَنَةُ
قَالُواْ
لَنَا
هَٰذِهِۦۖ
وَإِن
تُصِبۡهُمۡ
سَيِّئَةٞ
يَطَّيَّرُواْ
بِمُوسَىٰ
وَمَن
مَّعَهُۥٓۗ
أَلَآ
إِنَّمَا
طَٰٓئِرُهُمۡ
عِندَ
ٱللَّهِ
وَلَٰكِنَّ
أَكۡثَرَهُمۡ
لَا
يَعۡلَمُونَ
١٣١
اما وقتی نیکی [و فراوانیِ نعمت] به آنان می‌رسید، می‌گفتند: «این به سبب [شایستگىِ‌] خود ماست» و اگر بدی [و خشکسالی] به آنان می‌رسید، به موسی و کسانی که همراهش بودند، شگونِ بد می‌زدند. آگاه باشید! سرنوشتِ شوم آنان، تنها نزد الله [و به قضا و قدر او] است؛ اما بیشتر آنان نمی‌دانند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 7:130 تا 7:131
اعمال کا خمیازہ ٭٭

اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں۔ کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑ گئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی۔ یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہو گئی۔ شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور مومنوں کی وجہ سے ہے۔

غلط خیال تھا۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے۔ ان کی بدشگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے۔

صفحہ نمبر3041