وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-A'raf ۱۶۶:۷

۱۶۶:۷
فلما عتوا عن ما نهوا عنه قلنا لهم كونوا قردة خاسيين ١٦٦
فَلَمَّا عَتَوْا۟ عَن مَّا نُهُوا۟ عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُونُوا۟ قِرَدَةً خَـٰسِـِٔينَ ١٦٦
فَلَمَّا
عَتَوۡاْ
عَن
مَّا
نُهُواْ
عَنۡهُ
قُلۡنَا
لَهُمۡ
كُونُواْ
قِرَدَةً
خَٰسِـِٔينَ
١٦٦
و چون در برابر آنچه از آن نهى شده بودند [لجاجت و] سرپیچى كردند، به آنان گفتیم: «به صورت بوزینه‌هایی [خوار و] رانده‌شده درآیید».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

انسان کی تخلیق بھی لفظ (کن) سے ہوئی تھی اور اس کی خلق میں تبدیلی بھی لفظ کو نو قردۃ خاسئین سے ہوئی یعنی " ذلیل و خوار بندر بن جاؤ " چناچہ وہ ذلیل و خوار بندر بن گئے کیونکہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں کوئی حکم نہیں۔ اور نہ اسے کوئی رد کرسکتا ہے۔

اس سزا کے بعد ، سب پر اللہ تعالیٰ نے ابدی لعنت کا حکم فرمایا اور صرف ان لوگوں کو مستثنی کیا جو نبی آخر الزمان پر ایمان لائیں گے ، اس لیے کہ وہ ایک عرصے تک یہی نافرمانیاں کرتے رہے اور اب ان کا زمانہ معصیت ختم ہوگیا اور مشیت الہیہ نے ان کے حق میں یہ دائمی حکم صادر کردیا جو اٹل ہے۔