وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-A'raf ۱۶۹:۷

۱۶۹:۷
فخلف من بعدهم خلف ورثوا الكتاب ياخذون عرض هاذا الادنى ويقولون سيغفر لنا وان ياتهم عرض مثله ياخذوه الم يوخذ عليهم ميثاق الكتاب ان لا يقولوا على الله الا الحق ودرسوا ما فيه والدار الاخرة خير للذين يتقون افلا تعقلون ١٦٩
فَخَلَفَ مِنۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌۭ وَرِثُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَـٰذَا ٱلْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌۭ مِّثْلُهُۥ يَأْخُذُوهُ ۚ أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَـٰقُ ٱلْكِتَـٰبِ أَن لَّا يَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ وَدَرَسُوا۟ مَا فِيهِ ۗ وَٱلدَّارُ ٱلْـَٔاخِرَةُ خَيْرٌۭ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ١٦٩
فَخَلَفَ
مِنۢ
بَعۡدِهِمۡ
خَلۡفٞ
وَرِثُواْ
ٱلۡكِتَٰبَ
يَأۡخُذُونَ
عَرَضَ
هَٰذَا
ٱلۡأَدۡنَىٰ
وَيَقُولُونَ
سَيُغۡفَرُ
لَنَا
وَإِن
يَأۡتِهِمۡ
عَرَضٞ
مِّثۡلُهُۥ
يَأۡخُذُوهُۚ
أَلَمۡ
يُؤۡخَذۡ
عَلَيۡهِم
مِّيثَٰقُ
ٱلۡكِتَٰبِ
أَن
لَّا
يَقُولُواْ
عَلَى
ٱللَّهِ
إِلَّا
ٱلۡحَقَّ
وَدَرَسُواْ
مَا
فِيهِۗ
وَٱلدَّارُ
ٱلۡأٓخِرَةُ
خَيۡرٞ
لِّلَّذِينَ
يَتَّقُونَۚ
أَفَلَا
تَعۡقِلُونَ
١٦٩
و پس از آنان، جانشینان [ناشایستی‌] آمدند که کتاب [تورات] را به ارث بردند. آنان [ثروت و] کالای این [دنیای] پست را می‌گیرند [که سخنان الله را تحریف و به ناحق حکم کنند] و می‌گویند: «بخشیده خواهیم شد»؛ و اگر کالایی [دیگر] همانند آن برایشان بیاید، آن را [نیز] می‌گیرند. آیا در کتاب [آسمانی] از آنان پیمان گرفته نشده است که دربارۀ الله جز [سخن] حق نگویند؟ [پس نافرمانی‌شان از روی نادانی نیست؛ زیرا بارها تورات را خوانده‌اند] و آنچه را که در آن است آموخته‌اند؛ و سرای آخرت برای کسانی که پروا پیشه کنند بهتر است. آیا نمی‌اندیشید؟
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 7:168 تا 7:170
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے ٭٭

بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: تم زمین میں رہو سہو۔ جب آخرت کا وعدہ آئے گا، ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے۔ ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے، کچھ بد تھے۔ “ [17-الإسراء:104] ‏

جنات میں بھی یہی حال ہے۔ جیسے سورۃ الجن میں ان کا قول ہے کہ ” ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں۔ ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں۔ “ [72-الجن:11] ‏

پھر فرمان ہے کہ ہم نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے، غرض ہر طرح پرکھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں۔ جب یہ زمانہ بھی گزرا جس میں نیک و بد ہر طرح کے لوگ تھے، ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت کرنے والے رہ گئے۔ ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی، غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو۔ وہ حق بات کے بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے، جیب بھر دو، جو چاہو کہلوا لو۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا؟ توبہ کر لیں گے، معاف ہو جائے گا۔ پھر موقعہ آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا، توبہ کی۔ پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کر لیا۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے۔ حلال سے ملے، چاہے حرام سے ملے۔ پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کر دی۔ “ [19-مريم:59] ‏

صفحہ نمبر3115

بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا۔ آج ایک کو قاضی بناتے ہیں، وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے۔ وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم مقام کرتے ہیں، اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ پوچھتے ہیں: بھئی ایسا کیوں کرتے ہو؟ جواب ملتا ہے: اللہ غفور و رحیم ہے۔

پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں ح، اکموں اور ججوں کا شاکی تھا۔ لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ تم سے مضبوط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو، اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو۔ اسی وعدے کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» [3-آل عمران:187] ‏ میں ہوا ہے یعنی ” اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ “ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں، توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں۔

پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجر و ثواب کا لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا، حرام سے بچے، خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے، رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں۔ حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں اور ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔

صفحہ نمبر3116