وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-A'raf ۸۴:۷

۸۴:۷
وامطرنا عليهم مطرا فانظر كيف كان عاقبة المجرمين ٨٤
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًۭا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ ٨٤
وَأَمۡطَرۡنَا
عَلَيۡهِم
مَّطَرٗاۖ
فَٱنظُرۡ
كَيۡفَ
كَانَ
عَٰقِبَةُ
ٱلۡمُجۡرِمِينَ
٨٤
و بارانی [از سنگ] بر آنان باریدیم. پس بنگر که سر‌‌‌‌انجام گناهکاران چگونه بود.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 7:83 تا 7:84

آیت ” فَأَنجَیْْنَاہُ وَأَہْلَہُ إِلاَّ امْرَأَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِیْنَ (83) وَأَمْطَرْنَا عَلَیْْہِم مَّطَراً فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ (84)

” آخر کار ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی ۔۔۔۔۔۔۔ بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش پھر دیکھو کہ ان مجرموں کا کیا انجام ہوا ؟ “۔

اللہ کے نافرمان اللہ کے بندوں کے لئے خطرہ بن گئے تھے ‘ تو اللہ نے اپنے بندوں کو نجات دی اور نافرمان طبقات اور فرمان برداروں کے درمیان نظریاتی تفریق کردی گئی ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اگرچہ ان کی بیوی تھی لیکن وہ ہلاکت سے نہ بچ سکی کیونکہ اس کا نظریاتی اتحاد ان لوگوں کے ساتھ تھا جو ہلاک ہونے والے تھے ۔

ان لوگوں کو سخت بارشوں نے آلیا اور ان بارشوں میں زبردست طوفان تھے ‘ یوں نظر آتا تھا کہ سب لوگ بارش میں غرق ہوگئے اور پانی اس طرح امڈ رہا تھا جس طرح موجیں اور یوں اس سرزمین کو ان ناپاک لوگوں سے پاک کردیا گیا ۔ کیونکہ وہ روحانی طور پر ناپاک ہوگئے تھے اور گندگیوں میں آلودہ ہوگئے تھے ۔ چناچہ وہ گندگی میں زندہ رہے اور گندگی کے اندر ہی انکو موت نے آلیا ۔

اب تکذیب کرنے والی اقوام کی تاریخ کا آخری صفحہ الٹا جاتا ہے یہ صفحہ اس دور کی اقوام میں سے قوم شعیب یعنی اہل مدین سے متعلق ہے ۔