وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Baqarah ۱۰۱:۲

۱۰۱:۲
ولما جاءهم رسول من عند الله مصدق لما معهم نبذ فريق من الذين اوتوا الكتاب كتاب الله وراء ظهورهم كانهم لا يعلمون ١٠١
وَلَمَّا جَآءَهُمْ رَسُولٌۭ مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٌۭ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌۭ مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ كِتَـٰبَ ٱللَّهِ وَرَآءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ١٠١
وَلَمَّا
جَآءَهُمۡ
رَسُولٞ
مِّنۡ
عِندِ
ٱللَّهِ
مُصَدِّقٞ
لِّمَا
مَعَهُمۡ
نَبَذَ
فَرِيقٞ
مِّنَ
ٱلَّذِينَ
أُوتُواْ
ٱلۡكِتَٰبَ
كِتَٰبَ
ٱللَّهِ
وَرَآءَ
ظُهُورِهِمۡ
كَأَنَّهُمۡ
لَا
يَعۡلَمُونَ
١٠١
و وقتی فرستاده‌ای از جانب الله برایشان آمد -که آنچه را با آنان بود تصديق می‌کرد-، گروهی از کسانی که به آنها کتاب [= تورات] داده شده بود، کتابِ الله را پشت سر افکندند؛ گویی [از آن هیچ] نمی‌دانند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
باب

دوسری جگہ صاف بیان ہے کہ ان کی کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر موجود تھا فرمایا آیت «يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ» [ 7۔ الاعراف: 157 ] ‏ یعنی یہ لوگ توراۃ وانجیل میں حضور کا ذکر موجود پاتے ہیں یہاں بھی فرمایا ہے کہ جب ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہمارے پیغمبر ان کے پاس آیا تو ان کے ایک فریق نے اللہ رب العزت کی کتاب سے بےپرواہی برت کر اس طرح اسے چھوڑ دیا جیسے کوئی علم ہی نہیں۔

صفحہ نمبر391