وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Baqarah ۱۲۲:۲

۱۲۲:۲
يا بني اسراييل اذكروا نعمتي التي انعمت عليكم واني فضلتكم على العالمين ١٢٢
يَـٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتِىَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٢٢
يَٰبَنِيٓ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
ٱذۡكُرُواْ
نِعۡمَتِيَ
ٱلَّتِيٓ
أَنۡعَمۡتُ
عَلَيۡكُمۡ
وَأَنِّي
فَضَّلۡتُكُمۡ
عَلَى
ٱلۡعَٰلَمِينَ
١٢٢
ای بنی‌اسرائیل، نعمتم را که بر شما ارزانی داشتم به یاد آورید و اینکه شما را [به دلیل برخورداری از پیامبران متعدد و حقِ فرمانروایی،] بر مردم [زمان خودتان] برتری بخشیدم.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 2:122 تا 2:123
انتباہ ٭٭

پہلے بھی اس جیسی آیت شروع سورت میں گزر چکی ہے اور اس کی مفصل تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے یہاں صرف تاکید کے طور پر ذکر کیا گیا اور انہیں نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کی رغبت دلائی گئی جن کی صفتیں وہ اپنی کتابوں میں پاتے تھے جن کا نام اور کام بھی اس میں لکھا ہوا تھا بلکہ ان کی امت کا ذکر بھی اس میں موجود ہے پس انہیں اس کے چھپانے اور اللہ کی دوسری نعمتوں کو پوشیدہ کرنے سے ڈرایا جا رہا ہے اور دینی اور دنیوی نعمتوں کو ذکر کرنے کا کہا جا رہا ہے اور عرب میں جو نسلی طور پر بھی ان کے چچا زاد بھائی ہیں اللہ کی جو نعمت آئی ان میں جس خاتم الانبیاء کو اللہ نے مبعوث فرمایا ان سے حسد کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور تکذیب پر آمادہ نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

صفحہ نمبر477