وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Furqan ۲۷:۲۵

۲۷:۲۵
ويوم يعض الظالم على يديه يقول يا ليتني اتخذت مع الرسول سبيلا ٢٧
وَيَوْمَ يَعَضُّ ٱلظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَـٰلَيْتَنِى ٱتَّخَذْتُ مَعَ ٱلرَّسُولِ سَبِيلًۭا ٢٧
وَيَوۡمَ
يَعَضُّ
ٱلظَّالِمُ
عَلَىٰ
يَدَيۡهِ
يَقُولُ
يَٰلَيۡتَنِي
ٱتَّخَذۡتُ
مَعَ
ٱلرَّسُولِ
سَبِيلٗا
٢٧
و [یاد کن از] روزی که ستمکار، دستانش را [از حسرت] می‌گزد و می‌گوید: «ای کاش من راهی [هماهنگ] با پیامبر برگزیده بودم!
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 25:25 تا 25:31

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جو حق کے نام پر ناحق کا کاروبار کررہے ہوں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر داعی کی صداقت کو مشتبہ ثابت کرتے ہیں، اور بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیتے ہیں۔

جو لوگ ان جھوٹے لیڈروں کی باتوں پر یقین کرکے حق کے داعی کا ساتھ نہیں دیتے ان پر قیامت کے دن کھل جائے گا کہ لیڈروں کی دلیلیں دلیلیں نہ تھیں۔ وہ محض جھوٹے شوشے تھے جن کو انھوں نے اپنے مفاد کے مطابق پاکر مان لیا، اور اس کو حق سے دور رہنے کا بہانہ بنا لیا۔ اس وقت وہ افسوس کریںگے کہ کیوں انھوں نے ایسا کیا کہ وہ لیڈروں کے جھوٹے شوشوں کے فریب میں پڑے رہے، اور داعی حق کا ساتھ دینے والے نہ بنے۔