وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Hajj ۴۶:۲۲

۴۶:۲۲
افلم يسيروا في الارض فتكون لهم قلوب يعقلون بها او اذان يسمعون بها فانها لا تعمى الابصار ولاكن تعمى القلوب التي في الصدور ٤٦
أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌۭ يَعْقِلُونَ بِهَآ أَوْ ءَاذَانٌۭ يَسْمَعُونَ بِهَا ۖ فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى ٱلْأَبْصَـٰرُ وَلَـٰكِن تَعْمَى ٱلْقُلُوبُ ٱلَّتِى فِى ٱلصُّدُورِ ٤٦
أَفَلَمۡ
يَسِيرُواْ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
فَتَكُونَ
لَهُمۡ
قُلُوبٞ
يَعۡقِلُونَ
بِهَآ
أَوۡ
ءَاذَانٞ
يَسۡمَعُونَ
بِهَاۖ
فَإِنَّهَا
لَا
تَعۡمَى
ٱلۡأَبۡصَٰرُ
وَلَٰكِن
تَعۡمَى
ٱلۡقُلُوبُ
ٱلَّتِي
فِي
ٱلصُّدُورِ
٤٦
آیا آنان در زمین گردش نکرده‌اند، تا دل‌هایی داشته باشند که [حقیقت را] با آن دریابند یا گوش‌هایی که [اخبار گذشتگان را] با آن بشنوند؟ به راستی، تنها چشم‌ها نیست که نا‌‌‌بینا می‌گردد؛ بلکه دل‌هایی که در سینه‌هاست [بی‌بصیرت گشته و برای دیدنِ حق،] نابینا می‌شود.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
باب

پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ ” اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔ سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیر و شر کی تمیز ہوتی ہے “۔

ابو محمد بن جیارہ اندلسی نے جن کا انتقال ؁٥١٧ھ میں ہوا ہے اس مضمون کو اپنے چند اشعار میں خوب نبھایا ہے وہ فرماتے ہیں ”اے وہ شخص جو گناہوں میں لذت پا رہا ہے کیا اپنے بڑھاپے اور نفس کی برائی سے بھی تو بیخبر ہے؟ اگر نصیحت اثر نہیں کرتی تو کیا دیکھنے سننے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی؟ سن لے آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو اتنا برا نہیں جتنا، برا یہ ہے کہ واقعات سے سبق نہ حاصل کیا جائے۔ یاد رکھ نہ تو دنیا باقی رہے گی نہ آسمان نہ سورج چاند۔ گو جی نہ چاہے مگر دنیا سے تم کو ایک روز بادل ناخواستہ کوچ کرناہی پڑے گا۔ کیا امیر ہو کیا غریب کیا شہری ہو یا دیہاتی۔‏“

صفحہ نمبر5633