وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Hijr ۲۸:۱۵

۲۸:۱۵
واذ قال ربك للملايكة اني خالق بشرا من صلصال من حما مسنون ٢٨
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّى خَـٰلِقٌۢ بَشَرًۭا مِّن صَلْصَـٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ ٢٨
وَإِذۡ
قَالَ
رَبُّكَ
لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ
إِنِّي
خَٰلِقُۢ
بَشَرٗا
مِّن
صَلۡصَٰلٖ
مِّنۡ
حَمَإٖ
مَّسۡنُونٖ
٢٨
و [یاد کن] از هنگامی که پروردگارت به فرشتگان فرمود: «همانا من بشری را از گِلِ خشک [بازمانده] از لجنی بدبو خواهم آفرید.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 15:28 تا 15:33

ابلیس نے سجدہ نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہ بتائی کہ انسان میرے مقابلہ میں کم تر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ خود ابلیس کا اپنا احساس کمتری تھا۔ وہ یہ دیکھ کر جل اٹھا کہ میں پہلے سے کائنات میں ہوں اور مجھ کو یہ عزت نہیں ملی کہ تمام مخلوقات سے مجھے سجدہ کرایا جائے۔ اور انسان جو ابھی پیدا کیاگیاہے اس کو تمام مخلوقات سے سجدہ کرایا جارہا ہے۔ اس نے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ ’’انسان مجھ سے کم تر ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ سجدہ کا مستحق دراصل میں تھا پھر غیر مستحق کی عزت افزائی کو میں کیوں کر تسلیم کروں۔

یہی گھمنڈ اور حسد تمام اجتماعی خرابیوں کی جڑ ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسے مواقع انسان کے سامنے بار بار آتے ہیں۔ جو شخص ایسے موقع پر جلن کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو اس نے فرشتوں کی پیروی کی اور جو شخص جلن کا شکار ہو جائے وہ گویا شیطان کا پیرو بنا۔