وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Hijr ۵۷:۱۵

۵۷:۱۵
قال فما خطبكم ايها المرسلون ٥٧
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا ٱلْمُرْسَلُونَ ٥٧
قَالَ
فَمَا
خَطۡبُكُمۡ
أَيُّهَا
ٱلۡمُرۡسَلُونَ
٥٧
[آنگاه به فرشتگان] گفت: «اى فرستادگان، كار [و مأموریت دیگر] شما چیست؟»
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 15:57 تا 15:60

حضرت ابراہیم فلسطین میں رہتے تھے۔ اس کے قریب ہی بحر مردار کے کنارے آپ کے بھتیجے حضرت لوط تھے۔ حضرت لوط نے اس علاقہ میں بسنے والوں پر تبلیغ کی۔ مگر وہ اصلاح قبول کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ ان کی سرکشی بڑھتی چلی گئی۔ یہاںتک کہ خدا کا فیصلہ یہ ہوا کہ ان کو ہلاک کردیا جائے۔ یہ فرشتے اسی خدائی فیصلہ کے نفاذ کے لیے آئے تھے۔

غالباً حضرت لوط کے چند اہل خاندان کے سوا اور کوئی شخص ان پر ایمان نہ لایا۔ گھر سے باہر والوں کے لیے داعی حق کو قبول کرنا بہت مشکل ہوتاہے۔ کیوںکہ ان کے لیے بہت سی نفسیاتی رکاوٹیں حائل ہوجاتی ہے۔ تاہم خود اپنے خونی رشتہ داروں کے لیے یہ رکاوٹیں نہیں ہوتیں۔ چنانچہ لوگ نسبتاً زیادہ آسانی کے ساتھ داعئ حق کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

حضرت لوط کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ آپ کی دعوت پر غالباً صرف آپ کی لڑکیاںایمان لائیں۔ اولاد کو اپنے باپ سے جو خصوصی تعلق ہوتا ہے، وہ باپ کی دعوت کو قبول کرنے میں خصوصی مدد گار بن جاتا ہے۔ ان لڑکیوں نے حضرت لوط کے ساتھ نجات پائی۔ مگر آپ کی بیوی دل سے آپ کی مومن نہ بن سکی۔ چنانچہ اس کو دوسرے مجرموں کے ساتھ ہلاک کردیاگیا۔ خدا کے قانون میں محض رشتہ داری کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی۔