وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Isra ۱۱۱:۱۷

۱۱۱:۱۷
وقل الحمد لله الذي لم يتخذ ولدا ولم يكن له شريك في الملك ولم يكن له ولي من الذل وكبره تكبيرا ١١١
وَقُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًۭا وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ شَرِيكٌۭ فِى ٱلْمُلْكِ وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ وَلِىٌّۭ مِّنَ ٱلذُّلِّ ۖ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًۢا ١١١
وَقُلِ
ٱلۡحَمۡدُ
لِلَّهِ
ٱلَّذِي
لَمۡ
يَتَّخِذۡ
وَلَدٗا
وَلَمۡ
يَكُن
لَّهُۥ
شَرِيكٞ
فِي
ٱلۡمُلۡكِ
وَلَمۡ
يَكُن
لَّهُۥ
وَلِيّٞ
مِّنَ
ٱلذُّلِّۖ
وَكَبِّرۡهُ
تَكۡبِيرَۢا
١١١
و بگو: «ستایش مخصوص الله است که فرزندی [برای خویش] برنگزیده است و در فرمانروایی، هیچ شریکی ندارد و هرگز خوار و ناتوان نمی‌گردد که [نیاز به دوست و] کارساز داشته باشد» و او را بزرگ بدار؛ بزرگداشتی شایسته.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 17:110 تا 18:1

یہ تو اوہام جاہلیت ہیں اور بت پرستی کی واہی باتیں ہیں کہ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرو ، ایسی باتوں کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

اب پیغمبر ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ نماز میں ، صبر اور خفا میں میانہ روی اختیار کریں ، کیونکہ وہ لوگ حضور ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر مذاق اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اور اس طرح کر نا اللہ کے حضور حاضر ہوتے وقت زیادہ مناسب بھی ہے۔

ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا۔ (011) ۔

جس طرح سورت کے مضامین کا آغاز یوں ہوا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اس کا کوئی شریک اور بیٹا نہیں ہے۔ اور اس کو دلی اور مدد گار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ علی و کبیر ہے ، تو اسی مضمون پر اس سورت کا خاتمہ بھی ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کے مضامین کا محور یہی ہے۔ انہی مضامین سے اس کا آغاز ہوا اور انہی پر اس کا اختتام ہوا۔