وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Kafirun ۶:۱۰۹

۶:۱۰۹
لكم دينكم ولي دين ٦
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِىَ دِينِ ٦
لَكُمۡ
دِينُكُمۡ
وَلِيَ
دِينِ
٦
[بنابراین] آیین شما [که آن را برای خویش ساخته‌اید] برای خود‌تان باد و آیین من [که الله آن را بر من فرستاده است] برای خودم».
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 109:1 تا 109:6

یہ سورۃ مکہ کے آخری زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ً ایک عرصہ تک ’’اے میری قوم‘‘ کے لفظ سے لوگوں کو پکارتے رہے۔ مگر جب اتمام حجت کے باوجود انہوں نے نہ مانا تو آپ نے ایہا الکافرون (اے انکار کرنے والو) کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ اس مرحلہ میں یہ فقرہ در اصل کلمہ براءت ہے، نہ کہ کلمہ دعوت۔

میرے لیے میرا دین، تمہارے لیے تمہارا دین— یہ دوسروں کے دین کی تصدیق نہیں۔ یہ ایک طرف اپنے حق پر جمے رہنے کا آخری اظہار ہے۔ اور دوسری طرف وہ مخاطب کی اس حالت کا اعلان ہے کہ تم اب ضد کی اس آخری حد پر آگئے ہو جہاں سے کوئی شخص کبھی نہیں پلٹتا۔