وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Kahf ۵۱:۱۸

۵۱:۱۸
۞ ما اشهدتهم خلق السماوات والارض ولا خلق انفسهم وما كنت متخذ المضلين عضدا ٥١
۞ مَّآ أَشْهَدتُّهُمْ خَلْقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَلَا خَلْقَ أَنفُسِهِمْ وَمَا كُنتُ مُتَّخِذَ ٱلْمُضِلِّينَ عَضُدًۭا ٥١
۞ مَّآ
أَشۡهَدتُّهُمۡ
خَلۡقَ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
وَلَا
خَلۡقَ
أَنفُسِهِمۡ
وَمَا
كُنتُ
مُتَّخِذَ
ٱلۡمُضِلِّينَ
عَضُدٗا
٥١
من آنان را [که مشرکانه به عبادت می‌گیرید] نه هنگام آفرینش آسمان و زمین به گواهی گرفتم و نه هنگام آفرینش خودشان؛ و من هرگز گمراه‌کنندگان را یار و مددکار [خویش] نگرفته‌ام.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

اللہ تو بےنیاز ہے۔ وہ ذوالقوۃ المتین ہے ، اس کو کسی مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔ خواہ وہ مضل ہو اغیر مضل یہاں یہ جو کہا یا کہ اللہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار نہیں بناتا تو یہ دراصل مشرکین کے اوہام کی بیخ کنی کے لئے یہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے کہ اللہ نے کیا ایسے لوگوں کو اپنا شریک بنا لیا ہے جو ہدایت کی بجائے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جو لوگ شیطان کو اللہ کا شریک سمجھتے تھے وہ یہ حرکت اس لئے کرتے تھے کہ شیطان کے پاس کوئی خفیہ علم ہے اور کوئی فوق الفطری قوت ہے۔ اس لئے لوگ شیطان کے ساتھ دوستی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان لوگوں کی اس حماقت کو اس طرح فرماتا ہے کہ اگر بطور فرض محال میں نے کسی کو اپنا مددگار بنانا ہی تھا تو کیا اسے ضال اور مضل کو بنانا تھا۔ یہ ایک الزامی انداز تعبیر ہے۔

چناچہ قیامت کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے کہ لوگ دیکھ لیں کہ ان شریکوں اور شریک کرنے والے بحرمین کی حالت وہاں کیا ہوگی۔