وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان

تفسیر: Al-Qamar ۲۰:۵۴

۲۰:۵۴
تنزع الناس كانهم اعجاز نخل منقعر ٢٠
تَنزِعُ ٱلنَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍۢ مُّنقَعِرٍۢ ٢٠
تَنزِعُ
ٱلنَّاسَ
كَأَنَّهُمۡ
أَعۡجَازُ
نَخۡلٖ
مُّنقَعِرٖ
٢٠
[طوفانی وحشتناک] كه مردم را چنان از جاى مى‌كَنْد که گویى تنه‌های نخلِ ریشه‌كن‌شده بودند.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 54:19 تا 54:20

انا ارسلنا ............ منقعر (45: 02) ” ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے۔ “

ریحاصرصرا (45: 91) کے معنی ہیں سخت سرد ہوا۔ الفاظ کا ترنم ہی نوعیت بتارہا ہے۔ نحس یعنی منحوس اور اس سے بڑی نحوست کس قوم کو کیا نصیب ہوگی جو عاد کو نصیب ہوئی۔ یوں منظر تھا کہ جس طرح سخت ہوا سے کھجور کے تنے جڑوں سے اکھڑ کر زمین پر آجاتے ہیں اور درخت بری طرح گرا ہوا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ میدانوں میں پڑے ہوئے تھے۔

منظر نہایت خوفناک ہے۔ ہوا سخت ہے اور یہ ہوا جو عادیوں پر بھیجی گئی تھی یہ اللہ کے لشکروں میں ایک لشکر تھا۔ اس کائنات کی قوتوں میں سے ایک قوت۔ اللہ کی تخلیق کردہ قوت ، اللہ کے قانون قدرت کے عین مطابق چلنے والی قوت ، ایسی قوت جسے اللہ جس پر چاہے مسلط کردے۔ یہ قوت صحراؤں میں چل رہی ہے اور یہ جب عاد کی بستیوں تک پہنچتی ہے تو ان کا وہ حال بنادیتی ہے جو اوپر لکھا گیا۔